سینیٹ میں وفاقی بجٹ 27 ۔ 2026 پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر افنان اللہ نے کہا ہے کہ حکومت نے مشکل معاشی حالات میں متوازن بجٹ پیش کیا ہے اور اقتصادی اشاریوں میں بہتری ملک کے درست سمت میں گامزن ہونے کا ثبوت ہے۔
بجٹ معاشی استحکام کی جانب اہم قدم ہے، سینیٹر افنان اللہ
اسلام آباد۔15جون (اے پی پی):سینیٹ میں وفاقی بجٹ 27 ۔ 2026 پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر افنان اللہ نے کہا ہے کہ حکومت نے مشکل معاشی حالات میں متوازن بجٹ پیش کیا ہے اور اقتصادی اشاریوں میں بہتری ملک کے درست سمت میں گامزن ہونے کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی پیش رفت میں پاکستان کے مثبت سفارتی کردار کا اہم حصہ ہے اور اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مالیاتی خسارے میں کمی لانے کے لیے موثر اقدامات کیے ہیں جبکہ ٹیکس نظام میں مزید اصلاحات کے ذریعے خسارے کو مزید کم کیا جائے گا۔ انہوں نے تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 13 برسوں میں صوبے میں عوامی فلاح، صحت، تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے نمایاں نتائج سامنے نہیں آ سکے۔ انہوں نے سابق حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک کروڑ نوکریوں، پچاس لاکھ گھروں اور ایک ارب درخت لگانے جیسے وعدے عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق دور میں خارجہ پالیسی اور معاشی نظم و نسق کو نقصان پہنچا جبکہ بعض عناصر نے ملک کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیلنے کی کوشش بھی کی۔ سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت کا حجم 337 ارب ڈالر سے بڑھ کر 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جبکہ فی کس آمدنی 1547 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی شرح نمو جو 0.2 فیصد تک گر گئی تھی، اب بڑھ کر 3.7 فیصد ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مہنگائی کی شرح 29.2 فیصد سے کم ہو کر 7.6 فیصد پر آ گئی ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 27 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرضوں کے بوجھ میں کمی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور قرضوں کا جی ڈی پی کے تناسب سے حجم 75 فیصد سے کم ہو کر 68 فیصد پر آ گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی شعبے کے لیے رواں مالی سال میں 2162 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جائیں گے۔سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات بڑھ کر 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جبکہ فائیو جی لائسنسنگ کے اقدامات سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری اور ترقی کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں بجٹ میں ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کا بڑا حصہ پنجاب نے برداشت کیا ہے اور صوبے نے قومی مالی نظم و ضبط کے لیے نمایاں قربانی دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا اعتماد بحال ہوا ہے جس کا ثبوت ریکارڈ ترسیلات زر اور روشن ڈیجیٹل اکائونٹس میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موٹروے ایم-6 منصوبے پر پیش رفت جاری ہے جبکہ ایم ایل-1 ریلوے منصوبے، داسو، مہمند اور دیامر بھاشا ڈیمز سمیت اہم قومی منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں چھ سیٹلائٹس خلا میں بھیج کر خلائی اور تکنیکی صلاحیتوں میں نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔سینیٹر افنان اللہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں پاکستان پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا اور ’’بوم اینڈ بسٹ‘‘ کے معاشی چکر سے نکل کر مستحکم اور مسلسل ترقی حاصل کرے گا۔









