سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس،غیرت کے نام پر قتل، جڑانوالہ واقعہ کی تحقیقات اور دیگر واقعات کا تفصیلی جائزہ لیا

سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس،غیرت کے نام پر قتل، جڑانوالہ واقعہ کی تحقیقات اور دیگر واقعات کا تفصیلی جائزہ لیا

اسلام آباد۔15جون (اے پی پی):سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس پارلیمنٹ لاجز میں پیر کو کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں غیرت کے نام پر قتل، جرگوں اور پنچایتوں کی قانونی و آئینی حیثیت، صنفی بنیاد پر تشدد (جی بی وی) کے مقدمات میں سزا کی کم شرح، استغاثہ اور فوجداری نظامِ انصاف کو درپیش چیلنجز، لاہور میں احمد جاوید کے ٹارگٹ کلنگ کیس اور 2023 کے جڑانوالہ واقعہ کی تحقیقات و عدالتی کارروائی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹر خلیل طاہر، سینیٹر پونجو بھیل اور سینیٹر سید مسرور احسن نے شرکت کی جبکہ سینیٹر رانا محمود الحسن نے بطور محرکِ ایجنڈا اجلاس میں حصہ لیا۔ متعلقہ سرکاری اداروں اور ممتاز سول سوسائٹی تنظیموں کے نمائندے بھی اجلاس میں موجود تھے۔کمیٹی کو چاروں صوبوں سے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران رپورٹ ہونے والے غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات، ان کے اعدادوشمار، بنیادی اسباب اور متاثرہ اضلاع کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اراکین نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ ایک سنگین مجرمانہ فعل کو اب بھی ’’غیرت کے نام پر قتل‘‘ کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے۔ کمیٹی نے ملک بھر میں سزا کی کم شرح پر سوال اٹھاتے ہوئے بالخصوص بلوچستان اور سندھ میں انتہائی کم شرحِ سزا پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے جی بی وی مقدمات میں ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر اور بعض قانونی شقوں کے مبینہ غلط استعمال پر تشویش ظاہر کی جو کمزور استغاثہ اور کم شرحِ سزا کا سبب بن سکتے ہیں۔ کمیٹی نے ان جرگوں اور پنچایتوں کی قانونی حیثیت کا بھی جائزہ لیا جو عدالتی فیصلوں کے باوجود اورغیرآئینی طور غیرت کے نام پر قتل اور دیگر فوجداری معاملات میں فیصلے کرتے ہیں۔چیئرپرسن نے کہا کہ اگرچہ پنجاب میں ایسے جرگہ واقعات نسبتاً کم دکھائی دیتے ہیں، تاہم اطلاعات کے مطابق بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں جرگے اب بھی فعال ہیں۔ کمیٹی نے زور دیا کہ متوازی نظامِ انصاف قانون کی حکمرانی کو کمزور کرتا ہے اور نقصان دہ سماجی رویوں کے تسلسل کا باعث بنتا ہے۔

اراکین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ وڈیرہ کلچر عوام میں خوف پیدا کرنے اور انہیں قانونی و آئینی نظامِ انصاف سے رجوع کرنے سے روکنے کا سبب ہیں۔ کمیٹی نے اس خوف کے خاتمے پر زور دیا۔سول سوسائٹی کے نمائندوں نے فوجداری مقدمات میں طریقۂ کار اور شواہد سے متعلق سنگین خامیوں کی نشاندہی کی جو اکثر ملزمان کی بریت کا سبب بنتی ہیں۔ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات میں سخت سزاؤں سے متعلق قانونی اقدامات پر کمیٹی کو بریفنگ دی تاہم کمیٹی نے ان قوانین پر مؤثر عملدرآمد اور مقدمات کو ذاتی دشمنی یا وراثتی تنازعات کے طور پر دوبارہ درجہ بند کئے جانے کے امکانات پر تشویش ظاہر کی جس کی وجہ سے مجرم قانون کی گرفت سے آزاد ہو جاتے ہیں۔کمیٹی کو گواہوں کے منحرف ہونے اور بیانات واپس لینے کے مسئلے پر بھی بریفنگ دی گئی جسے بریت کی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا۔ اراکین نے شواہد کے تحفظ اور شرحِ سزا بہتر بنانے کے لئے گواہوں کے ویڈیو ریکارڈ شدہ بیانات کے زیادہ استعمال کی تجویز دی۔

اجلاس کے دوران بعض سول سوسائٹی شرکاء نے جرگوں کو متبادل تنازعاتی حل کے نظام کے طور پر باقاعدہ حیثیت دینے کی تجویز پیش کی جسے کمیٹی نے متفقہ طور پر مسترد کر دیا۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ غیر آئینی فورمز کو کسی بھی قانونی یا انتظامی ڈھانچے کے تحت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ چیئرپرسن نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ایسے غیر قانونی اقدامات کے خلاف آئینی و قانونی دفعات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔کمیٹی نے صنفی بنیاد پر تشدد اور غیرت کے نام پر جرائم سے متعلق بیانیے کی تشکیل میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھی غور کیا۔ آن لائن صنفی دشمنی، غلط معلومات کے پھیلاؤ اور تحقیقات و عدالتی کارروائیوں پر اثرانداز ہونے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

چیئرپرسن کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ زیرِ سماعت مقدمات سے متعلق نقصان دہ آن لائن مواد سے نمٹنے کے لئے ایک مؤثر اور قانونی فریم ورک پیش کیا جائے۔ کمیٹی نے میڈیا پر بھی زور دیا کہ وہ جی بی وی مقدمات کی رپورٹنگ میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں سنسنی خیز کوریج بچوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہو۔کمیٹی نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے نمائندے کی عدم موجودگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ادارے کی شرکت یقینی بنائی جائے۔

اجلاس میں لاہور میں احمد جاوید کے ٹارگٹ کلنگ کیس پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اراکین نے ملزم کی ضمانت، اس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل نہ کیے جانے اور عدالتی کارروائیوں و عوامی مباحثوں میں مقتول کی کردار کشی کے الزامات پر تشویش ظاہر کی۔ کمیٹی نے 2023 کے جڑانوالہ واقعہ کے حوالے سے تحقیقات، گرفتاریوں، معاوضوں اور بحالی کے اقدامات پر پیشرفت کا جائزہ لیا۔ گرجا گھروں اور مسیحی برادری کے گھروں پر حملوں کے بعد معاوضوں کی ادائیگی میں تاخیر، بعض حکام کی جانب سے مسیحی برادری کے خلاف نفرت انگیز بیانیے اور متاثرہ افراد کے خلاف ہی مقدمات درج کیے جانے کی اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کے چیئرپرسن نے جڑانوالہ واقعہ کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے بروقت انصاف اور معاوضوں کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا۔ بڑے گرجا گھروں کو معاوضے کی ادائیگی میں پیش رفت کو سراہتے ہوئے چھوٹے عبادت گاہوں اور انفرادی متاثرین کے مسائل کے حل میں تاخیر پر تشویش ظاہر کی گئی۔ چیئرپرسن نے آئی جی پنجاب کی عدم موجودگی پر بھی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں ان کی شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

کمیٹی نے تمام ملزمان کی شناخت اور گرفتاری میں تاخیر پر بھی سوالات اٹھائے اور ان اطلاعات پر تشویش ظاہر کی کہ مسیحی برادری کے بعض افراد کو بھی مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے جس سے متاثرین پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ جڑانوالہ واقعہ کو احتساب، انصاف اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھا جائے گا۔کمیٹی نے مسیحی برادری سمیت معاشرے کے تمام کمزور اور محروم طبقات کے تحفظ کے لئے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور منصفانہ معاوضوں، شفاف تحقیقات اور تشدد میں ملوث تمام عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

مزید خبریں