امریکہ ایران امن معاہدہ، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی سفارت کاری کی پذیرائی

امریکہ ایران امن معاہدہ، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی سفارت کاری کی پذیرائی

پشاور۔ 15 جون (اے پی پی):پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان کامیاب امن معاہدے کو آسان بنانے میں اپنے تعمیری کردار ادا کرنے پر بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل کی ہے۔ یہ امن معاہدہ ایسی پیش رفت ہے جسے مہینوں کے تنازع کو ختم کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں استحکام بحال کرنے کی سمت میں ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ جیسے ہی وزیراعظم محمد شہباز شریف کے اعلان کے بعد پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کی خبر پھیلی، دنیا بھر کے رہنماؤں، سفارت کاروں، سیاسی تجزیہ کاروں اور سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے تعریف کے پیغامات کا تانتا بندھ گیا۔

‘ایک جملہ ’’شکریہ پاکستان‘‘ نمایاں طور پر گونجا جو بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دور میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے کے مثبت ذرائع کو برقرار رکھنے کےلیے اسلام آباد کی مسلسل کوششوں کے بڑھتے ہوئے اعتراف کو ظاہر کرتا ہے۔ پیر کے روز قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ پاکستان 19 جون کو جنیوا میں امریکہ ایران امن معاہدے کی باضابطہ دستخط کی تقریب کی میزبانی کرے گا۔ انہوں نے اس معاہدے کو عالمی امن کےلیے ایک تاریخی کامیابی اور مذاکرات کی فتح قرار دیا۔ وزیراعظم کے اس اعلان کو بڑے بین الاقوامی اور قومی میڈیا اداروں نے بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کیا جس میں اسلام آباد کی ثالثی کا اعتراف کیا گیا۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں جو تفصیلات دیں اس کے مطابق اس معاہدے میں فوجی کارروائیوں کا فوری خاتمہ اور تزویراتی طور پر اہم آبنائے ہرمز جو کہ توانائی کی ترسیل کا ایک اہم عالمی راستہ ہے، کو دوبارہ کھولنے کے اقدامات شامل ہیں۔پاکستانیوں کےلیے یہ پیش رفت محض ایک سفارتی کامیابی سے بڑھ کر ہے۔ یہ بین الاقوامی سطح پر ایک تعمیری اور ذمہ دارانہ ملک کے طور پر دیکھے جانے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے جو امن اور استحکام کو فروغ دینے کےلیے پرعزم ہے۔ مصر اور سعودی عرب میں پاکستان کے سابق سفیر منظور الحق نے اس پیش رفت کو ایک شاندار سفارتی کامیابی قرار دیا کیونکہ اس نے عالمی سطح پر امن کے ثالث کے طور پر پاکستان کے تشخص کو بہتر بنایا ہے۔ قومی خبر رساں ادارے "اے پی پی” سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مستقل مذاکرات کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مشکل معاہدہ طے کرانے میں مدد کرکے ایک مؤثر سفارت کاری کے ذریعے ناممکن کو ممکن بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسے وقت میں جب باضابطہ مذاکرات تعطل کا شکار نظر آ رہے تھے، بیک چینل روابط کو آسان بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کو برقرار رکھنے میں مصروف رہا۔ سابق سفارت کار منظور الحق کے مطابق واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ پاکستان کے قریبی دوطرفہ تعلقات نے اسے حریف ممالک کو ایک معاہدے کے قریب لانے میں تعمیری کردار ادا کرنے کے قابل بنایا۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر اے ایچ ہلالی نے کہا کہ پاکستان امن کی سہولت کاری کےلیے اپنی کوششوں کے ذریعے ایک اہم سفارتی کھلاڑی کے طور پر ابھرا ہے۔ یہ معاہدہ علاقائی استحکام میں نمایاں طور پر حصہ ڈال سکتا ہے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھا سکتا ہے اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں تجارتی امکانات کو بہتر بنا سکتا ہے۔

ڈاکٹر اے ایچ ہلالی نے کہا کہ اس پیش رفت نے علاقائی مالیاتی منڈیوں میں پہلے ہی امید پیدا کر دی ہے اور یہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی عالمی تجارت پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشیدگی میں کمی کے نتیجے میں تیل کی کم قیمتیں توانائی درآمد کرنے والے ممالک، بشمول پاکستان، کو معاشی ریلیف فراہم کریں گی۔انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی لمحہ ثابت کرتا ہے کہ بڑھتی ہوئی پولرائزڈ دنیا میں مسلسل سفارت کاری اب بھی معنی خیز نتائج دے سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق متعدد علاقائی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ پاکستان کے متوازن تعلقات نے اسے بات چیت کو آسان بنانے اور تنازعات کے پرامن حل کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک منفرد مقام دیا۔

دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا۔ گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ یہ معاہدہ ایک مثبت پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے جو علاقائی امن، استحکام اور باہمی تعاون کو مضبوط کرے گا۔ انہوں نے مذاکرات، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کےلیے پاکستان کی دیرینہ حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کا تصادم کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ انتہائی حوصلہ افزا ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ ساتھ دفتر خارجہ کے حکام اور اس عمل میں شامل سفارتی ٹیموں کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ وسیع تر معاشی تعاون، بہتر علاقائی رابطوں اور دیرپا استحکام کی راہ ہموار کرے گا۔ اگرچہ چیلنجز اب بھی موجود ہیں اور حتمی معاہدے پر ابھی باضابطہ دستخط ہونا باقی ہیں، مبصرین نے اس پیش رفت کو ایک اہم سفارتی سنگِ میل قرار دیا۔ایک ایسے خطے میں جسے اکثر تنازعات اور غیر یقینی صورتحال سے جوڑا جاتا ہے، پاکستان کے ثالثی، روابط اور پرامن مکالمے کے پیغام نے بین الاقوامی توجہ حاصل کی ہے اور عالمی سطح پر اس کی تعریف کی جا رہی ہے۔

مزید خبریں