سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کااجلاس،سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی مخصوص اقسام کی آمدن پر پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز منظور
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کااجلاس،سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی مخصوص اقسام کی آمدن پر پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز منظور

مزید خبریں
اسلام آباد۔15جون (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی مخصوص اقسام کی آمدن پر پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز منظور کر لی، کمیٹی کوبتایاگیا کہ ڈیٹا تجزیے کے نتیجے میں ایسے تقریباً 8697 افراد کی نشاندہی ہوئی ہے جن کے بینک ڈپازٹس کا حجم تقریباً 750 ارب روپے ہے مگر انہوں نے انکم ٹیکس ادا نہیں کیا۔
سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کااجلاس پیرکو چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقدہوا۔اجلاس میں فنانس بل 2026 کے تفصیلی جائزہ کاسلسلہ جاری رہا۔ کمیٹی نے مسلسل تیسرے اجلاس میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق وار جانچ پڑتال کی اور مالیاتی، ٹیکس، صنعتی اور محصولات سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا۔کمیٹی نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کا شق وار تفصیلی جائزہ لیا اور فنانس بل 2026 کے تحت پیش کی گئی اہم ٹیکس تجاویز، مالیاتی اصلاحات اور مجوزہ ترامیم کا جائزہ لیا۔
ایف بی آر کے حکام نے اراکین کو مختلف دفعات پر بریفنگ دی اور ٹیکس انتظامیہ، محصولات کی وصولی اور عملدرآمد کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلی سوالات کے جوابات دیئے۔کمیٹی نے سٹیل اور مینوفیکچرنگ شعبوں سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا جن میں ٹیکس وصولی کے طریقہ کار، ریفنڈ نظام اور صنعتی سہولت کاری سے متعلق تجاویز شامل تھیں۔ بڑے صنعتی شعبے کے نمائندوں نے صنعت کو درپیش عملی مشکلات سے کمیٹی کو آگاہ کیا اور بجلی کی لاگت اور شعبے کی ساخت سے متعلق اعداد و شمار پیش کئے۔ اراکین نے ایسی تجاویز کا جائزہ لیا جن کا مقصد صنعتی ترقی کو فروغ دیتے ہوئے محصولات کے اہداف کو برقرار رکھنا اور ایک متوازن و مؤثر نظام قائم کرنا تھا،کمیٹی نے سپر ٹیکس اور وسیع تر ٹیکس اصلاحات سے متعلق تجاویز کا بھی جائزہ لیا۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اراکین کو حکومت کی جانب سے ٹیکس نظام کو معقول بنانے اور معاشی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔ اراکین نے ٹیکس استثنیٰ کی حد سے متعلق تجاویز اور ان کے ممکنہ مالیاتی اثرات کا جائزہ لیا۔
ایف بی آر کی جانب سے کمیٹی کوبتایاگیا کہ استثنیٰ کی حد 50 کروڑ روپے سے بڑھا کر ایک ارب روپے کرنے کی صورت میں تقریباً 250 ارب روپے کے محصولات پر اثر پڑے گا۔چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے شواہد پر مبنی پالیسی سازی، ادارہ جاتی تسلسل اور ٹیکس اصلاحات کے مؤثر نفاذ کی اہمیت پر زور دیا۔ کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ ٹیکس اقدامات کا جامع جائزہ لیا جائے تاکہ مالیاتی نظام میں ہم آہنگی، شفافیت اور طویل المدت پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ کمیٹی کو ایف بی آر کے ڈیجیٹل مانیٹرنگ اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جن کا مقصد ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کے ذریعے معیشت کو دستاویزی بنانے اور ٹیکس تعمیل میں بہتری لانا ہے۔
اراکین کو بتایا گیا کہ صنعتی یونٹس کے لئے ڈیجیٹل نگرانی کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ شفاف نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے اور انتظامی بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔ کمیٹی نے اس اقدام سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا اور اس کے نفاذ کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا۔ اراکین نے سٹیل سیکٹر میں ٹیکس وصولی کے طریقہ کار سے متعلق تجاویز پر بھی غور کیاجن میں بجلی کے استعمال کے اعداد و شمار سے منسلک مختلف آپشنز شامل تھے۔ کمیٹی نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، معیشت کی دستاویز بندی بہتر بنانے اور ریفنڈز کی مؤثر و بروقت ادائیگی کو آسان بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا۔ ایف بی آر حکام نے بتایا کہ ہر ماہ تقریباً 55 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے جاتے ہیں۔
حکام نے ریفنڈ نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لئے جاری کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔ اہم پالیسی پیش رفت کے طور پر کمیٹی نے ٹیکس سال 2026 سے لائف انشورنس پالیسیوں کے منافع والے حصے پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز منظور کر لی تاہم اصل زر ٹیکس سے مستثنیٰ رہے گا۔ اسی طرح وفات کی صورت میں ادا کی جانے والی انشورنس رقم، معذوری سے متعلق انشورنس فوائد اور سات سال کے بعد میچور ہونے والی پالیسیوں کو مجوزہ فریم ورک کے تحت ٹیکس استثنیٰ حاصل رہے گا۔ کمیٹی نے والدین کے انتقال کے بعد جائیداد کی تقسیم سے متعلق سیلز ٹیکس استثنیٰ برقرار رکھنے کی تجویز کی بھی توثیق کی۔
اراکین کو بتایا گیا کہ وراثتی تصفیوں کے دوران جائیداد کی تقسیم یا قیمت کے تعین میں کی جانے والی تبدیلیوں پر کوئی سیلز ٹیکس لاگو نہیں ہوگا ۔کمیٹی نے ٹیکس نظام میں یکسانیت پیدا کرنے کی وسیع تر کوششوں کے تحت میوچل فنڈز اور مضاربہ اداروں سے متعلق ٹیکس تجاویز کا بھی جائزہ لیا۔ڈیجیٹل معیشت سے متعلق مباحثے کے دوران اراکین نے سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز کا جائزہ لیا۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی، زرمبادلہ کے حصول میں اضافہ اور معیشت کے ابھرتے ہوئے شعبوں کے لیے منصفانہ ٹیکس نظام کو یقینی بنانا ضروری ہے کمیٹی نے سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی مخصوص اقسام کی آمدن پر پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز منظور کر لی۔
منظور شدہ تجویز کے مطابق سالانہ 6 لاکھ روپے تک کی آمدن ٹیکس سے مستثنیٰ رہے گی جبکہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک کی آمدن پر پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لاگو ہو گا۔ اجلاس کے دوسرے مرحلے میں کمیٹی نے گاڑیوں کی درآمد اور آٹوموبائل شعبے سے تعلق رکھنے والے اسٹیک ہولڈرز کے مؤقف سنے جنہوں نے پالیسی کے نفاذ، ریگولیٹری طریقہ کار اور تجارتی سہولت کاری سے متعلق امور پر اپنے خیالات پیش کئے۔ اراکین کو گاڑیوں کی درآمد، معائنہ کے طریقہ کار اور شعبے کو درپیش چیلنجز سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ متعلقہ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ شعبے کی معاونت اور قواعد و ضوابط میں وضاحت پیدا کرنے کے لئے مشاورت اور پالیسی سازی کا عمل جاری ہے۔
کمیٹی نے ڈیٹا انضمام، معیشت کی دستاویز بندی اور ٹیکس نیٹ میں توسیع سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا۔ ایف بی آر نے اراکین نے بتایا کہ ٹیکس تعمیل کے مقاصد کے لیے مالیاتی معلومات کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانے کی خاطر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ اراکین کو لین دین کی نگرانی اور معیشت کے مختلف شعبوں کو دستاویزی بنانے سے متعلق تجاویز پر بھی بریفنگ دی گئی، کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ ڈیٹا تجزیے کے نتیجے میں ایسے تقریباً 8697 افراد کی نشاندہی ہوئی ہے جن کے بینک ڈپازٹس کا حجم تقریباً 750 ارب روپے ہے، مگر انہوں نے انکم ٹیکس ادا نہیں کیا۔
اس صورتحال نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور ٹیکس تعمیل کو بہتر بنانے کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال، سینیٹر عبدالقادر، سینیٹر طلحہ محمود، سینیٹر شاہ زیب درانی، سینیٹر انوشہ رحمان احمد خان، سینیٹر فیصل واوڈا، سینیٹر سید فیصل علی سبزواری، سینیٹر دلاور خان، پاکستان سٹیل ملز کے نمائندے، ٹیلی کام شعبے کے سٹیک ہولڈرز، بڑی صنعتوں کے نمائندے، آٹو انڈسٹری کے نمائندگان، ایف بی آر اور متعلقہ وزارتوں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔







