خیبرپختونخوا میں گیس لوڈشیڈنگ ناقابل قبول، عوام کو ان کا حق ملنا چاہیے، گورنر فیصل کریم کنڈی

خیبرپختونخوا میں گیس لوڈشیڈنگ ناقابل قبول، عوام کو ان کا حق ملنا چاہیے، گورنر فیصل کریم کنڈی

پشاور۔ 15 جون (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ خیبرپختونخوا کے حکام نے صوبے میں گیس کی فراہمی، جاری ترقیاتی منصوبوں اور درپیش چیلنجز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں جنرل منیجر وقاص شینواری، ریجنل منیجر کرک کاشف نوید، ریجنل منیجر ایبٹ آباد رحمت اللہ مروت، انچارج ڈیرہ اسماعیل خان وقاص رستم گنڈہ پور، قائم مقام ریجنل منیجر مردان ریحان خان، سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔حکام نے گورنر کو بتایا کہ خیبرپختونخوا میں سوئی ناردرن گیس کے چار ریجنز قائم ہیں۔ پشاور ریجن میں 3 لاکھ 67 ہزار، مردان ریجن میں 3 لاکھ 10 ہزار، ایبٹ آباد ریجن میں 2 لاکھ 5 ہزار جبکہ کرک ریجن، جو بھکر سمیت 9 اضلاع پر مشتمل ہے، میں ایک لاکھ 48 ہزار صارفین کو گیس فراہم کی جا رہی ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے بھر میں گیس نیٹ ورک کی تبدیلی اور اپ گریڈیشن کا عمل جاری ہے، جس کے باعث لائن لاسز میں نمایاں کمی آئی ہے۔

گیس لاسز 21 فیصد سے کم ہو کر 13 فیصد تک آ چکے ہیں۔ حکام کے مطابق صنعتوں کو گیس سے بجلی پیدا کرنے سے روکنے کے فیصلے کے بعد گیس کے مجموعی استعمال میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ گورنر کو آگاہ کیا گیا کہ گیس چوری کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں جبکہ پشاور شہر، نمک منڈی، حیات آباد، چغرمٹی، چارسدہ اور دیگر علاقوں میں نئی گیس لائنیں بچھائی جا رہی ہیں تاکہ صارفین کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی سمال انڈسٹریل اسٹیٹ میں گیس پائپ لائن پہلے سے موجود ہے اور وہاں صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بنیادی ڈھانچہ دستیاب ہے۔ حکام نے بتایا کہ سوملین گیس سے صوبے میں سستی بجلی کی پیداوار کے لیے 2016 سے صوبائی حکومت کو پیشکش کی جا رہی ہے، تاہم گزشتہ دس برسوں کے دوران اس تجویز پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔

اس موقع پر گورنر فیصل کریم کنڈی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں سستی بجلی کی فراہمی کے اس اہم منصوبے پر فوری توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ گورنر نے ڈیرہ اسماعیل خان کے دفتر میں افرادی قوت اور دیگر انتظامی مسائل کے حل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان ریجن میں گیس لاسز نسبتاً کم ہیں، اس لیے صارفین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان سمیت صوبے کے دیگر علاقوں میں گیس لوڈشیڈنگ کے مسائل پر قابو پانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ افسوسناک امر ہے کہ گیس پیدا کرنے والا صوبہ ہونے کے باوجود خیبرپختونخوا کے عوام گیس لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔ عوام کو ان کا حق ملنا چاہیے اور گیس کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

گورنر نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں گیس پریشر کے خاتمہ اور توسیعی منصوبہ پر کام کو تیز کیا جائے، دراذندہ گیس کو قریب ترین ملحقہ تحصیل میں پانچ کلومیٹر دائرہ کے اصول کے تحت فراہمی کے حوالہ سے کام کیا جائے، انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں فلائی اوور کے باعث نئی پائپ لائن کی تنصیب کو جلد مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ گورنر کو بتایا گیا کہ متعدد اضلاع میں صوبائی حکومت کے تعاون سے نئی پائپ لائن بچھائی جارہی ہے۔ جہاں سے گیس نکلتی ہے وہاں پانچ کلومیٹر کے دائرہ میں آبادیوں کو گیس فراہمی پر کام جاری ہے اور نئے علاقوں میں یہ منصوبے منظوری کے مراحل میں ہیں۔

مزید خبریں