سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کا اجلاس، پی ایس ڈی پی کے تحت مختلف وفاقی وزارتوں اور اداروں کے ترقیاتی منصوبوں اور بجٹ میں مختص رقوم کا جائزہ لیا گیا

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کا اجلاس، پی ایس ڈی پی کے تحت مختلف وفاقی وزارتوں اور اداروں کے ترقیاتی منصوبوں اور بجٹ میں مختص رقوم کا جائزہ لیا گیا

اسلام آباد۔15جون (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات نے مالی سال 2026-27 کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت مختلف وفاقی وزارتوں اور اداروں کے ترقیاتی منصوبوں اور بجٹ میں مختص رقوم کا جائزہ لیا، قائمہ کمیٹی نے ترقیاتی وسائل کے دانشمندانہ استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جاری منصوبوں کی تکمیل اور مناسب فنڈنگ کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق قائمہ کمیٹی کا بجٹ سے متعلق فالو اپ اجلاس پیر کو پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر قرۃ العین مری کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر شہادت اعوان، سینیٹر سعدیہ عباسی اور سینیٹر منظور احمد نے شرکت کی جبکہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال بھی اجلاس میں موجود تھے۔

سیکرٹری منصوبہ بندی نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومتی پالیسی کے مطابق مالی سال 2026-27 کے پی ایس ڈی پی میں دفاع اور داخلہ کی وزارتوں کے قومی سلامتی سے متعلق منصوبوں اور بیرونی مالی معاونت سے چلنے والے منصوبوں کے علاوہ کوئی نئی ترقیاتی سکیم شامل نہیں کی گئی۔ سرمایہ کاری بورڈ (بی او آئی) کے حکام نے بتایا کہ ادارے کے منصوبوں کے لیے 760 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں اور اس وقت پانچ جاری منصوبے زیر تکمیل ہیں جن میں چار مقامی جبکہ ایک غیر ملکی معاونت سے چلنے والا منصوبہ شامل ہے۔

وزارت موسمیاتی تبدیلی کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ چار جاری منصوبوں کے لیے 2.477 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزارت تجارت کے حکام نے کوئٹہ ایکسپو سینٹر منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ منصوبے کی تکمیل کے لیے 3.735 ارب روپے درکار ہیں تاہم پی ایس ڈی پی 2026-27 میں صرف 89 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ چیئرپرسن نے سفارش کی کہ منصوبے کے مقام سے متعلق مسائل کے حل اور تمام ضروری مراحل مکمل ہونے کے بعد دوران سال مطلوبہ فنڈز فراہم کرنے پر غور کیا جائے۔ وزارت دفاع کے حکام نے بتایا کہ قومی سلامتی کے تقاضوں کے پیش نظر وزارت نے اپنے 19 جاری منصوبوں کے علاوہ 12 نئی سکیمیں بھی تجویز کی ہیں۔

وزارت دفاعی پیداوار کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کراچی شپ یارڈ کی اپ گریڈیشن اور گوادر میں شپ یارڈ کی ترقی کے لیے پراجیکٹ مینجمنٹ سیل کا قیام دو جاری منصوبے ہیں جبکہ کراچی شپ یارڈ اپ گریڈیشن منصوبہ رواں مالی سال کے دوران مکمل ہونے کی توقع ہے۔ سپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے حکام نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر شروع کیا گیا ’’انویسٹ پاکستان‘‘ منصوبہ جاری ہے جس کا مقصد ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے حکام نے تین جاری منصوبوں اور ان کے لیے مختص فنڈز کے بارے میں بتایا، ان میں دو خواتین ہاسٹلز اور ایک وفاقی پبلک سروس کمیشن کے امتحانی نظام کی آٹومیشن اور داخلی امور کی ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق منصوبہ شامل ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ 2018ء میں ترقیاتی اخراجات مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 2.6 فیصد تھے جو اس وقت کم ہو کر 0.6 فیصد رہ گئے ہیں۔

انہوں نے انسانی وسائل کی ترقی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ تقریباً ایک ہزار ارب روپے جبکہ صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگراموں کا مجموعی حجم تقریباً تین ہزار ارب روپے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ پی ایس ڈی پی میں قومی سلامتی اور دفاع سے متعلق منصوبوں کے علاوہ کوئی نئی سکیم شامل نہیں کی گئی۔اجلاس کے دوسرے سیشن میں کمیٹی نے وزارت خزانہ اور صوبوں سے متعلق جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا۔

وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ ڈویژن پانچ بڑے منصوبوں پر کام کر رہی ہے اور آئندہ مالی سال کے لیے فنڈز مختص کیے جا چکے ہیں تاہم فنڈز کی کمی اور سرٹیفکیشن کے عمل کے باعث مالی ضروریات میں نظرثانی متوقع ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان منٹ کی جدیدکاری و اپ گریڈیشن (فیز ٹو اے) منصوبہ رواں سال مکمل ہونے کی توقع ہے جبکہ پاکستان آڈٹ اینڈ اکائونٹس اکیڈمی اسلام آباد کے لیے مختص فنڈز کا تقریباً 80 فیصد استعمال ہو چکا ہے۔

وفاقی و صوبائی سطح پر پبلک فنانشل مینجمنٹ اصلاحات کے تحت آن لائن بلنگ سلوشن ’’سہل‘‘ منصوبہ آئندہ سال مکمل ہونے کا امکان ہے۔صوبوں اور خصوصی علاقوں سے متعلق منصوبوں پر غور کے دوران چیئرپرسن نے منصوبوں پر عملدرآمد کی سست رفتار پر تشویش کا اظہار کیا اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ آئندہ صوبائی منصوبوں کے لیے وفاقی فنڈنگ کے ساتھ مختص رقوم کے استعمال کی نگرانی اور جانچ کا موثر نظام بھی وضع کیا جائے۔

وزارت صنعت و پیداوار کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ دس جاری ترقیاتی منصوبوں میں سے دو رواں مالی سال کے دوران مکمل ہو جائیں گے۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے حکام نے بتایا کہ وزارت کے 11 جاری منصوبے ہیں جبکہ قومی سلامتی سے متعلق ہونے کے باعث دو نئی سکیمیں بھی پی ایس ڈی پی میں شامل کی گئی ہیں۔ وزارت داخلہ و انسداد منشیات کے منصوبوں پر غور کے دوران کمیٹی کو بتایا گیا کہ 21 جاری منصوبوں کے علاوہ ملکی سلامتی اور دفاعی ضروریات کے پیش نظر آٹھ نئی سکیمیں شامل کی گئی ہیں۔ کمیٹی کی چیئرپرسن نے ترقیاتی وسائل کے دانشمندانہ استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جاری منصوبوں کی تکمیل اور ان کے لیے مناسب فنڈز کی فراہمی تک کسی نئے ترقیاتی منصوبے کو پی ایس ڈی پی میں شامل نہ کیا جائے۔

مزید خبریں