سعودی تعاون سے یمنی وزارت مواصلات کے عملے کے لیے تربیتی پروگرام کا انعقاد

یمن کی ترقی اور تعمیر نو کے سعودی پروگرام نے کمیونیکیشن، سپیس اینڈ ٹیکنالوجی کمیشن کے اشتراک سے یمنی وزارت مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے عملے کے لیے ایک تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا۔

صنعا۔16جون (اے پی پی):یمن کی ترقی اور تعمیر نو کے سعودی پروگرام نے کمیونیکیشن، سپیس اینڈ ٹیکنالوجی کمیشن کے اشتراک سے یمنی وزارت مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے عملے کے لیے ایک تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا۔العربیہ اردو کے مطابق یہ تربیتی پروگرام 14 اور 15 جون کو یمن کے صوبے عدن میں منعقد ہوا، جس میں 44 شرکاء نے حصہ لیا۔ پروگرام میں فنی اور انتظامی مہارتوں کی ترقی کے لیے خصوصی سیشنز شامل تھے، جن کا مقصد مواصلات اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں جدید ترین طریقہ کار اور ٹیکنالوجیز سے متعلق شرکا کے علم میں اضافہ کرنا تھا۔

تربیتی پروگرام کا افتتاح کمیونیکیشن، سپیس اینڈ ٹیکنالوجی کمیشن کے گورنر انجینئر ہیثم بن عبدالرحمن العوہلی، یمنی وزیر مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شادی باصرہ اور یمن کی ترقی اور تعمیر نو کے سعودی پروگرام کے اسسٹنٹ سپروائزر جنرل حسن العطاس نے کیا۔یہ دوسرا تربیتی پروگرام ہے، جو یمن کی ترقی اور تعمیر نو کے سعودی پروگرام اور کمیونیکیشن، سپیس اینڈ ٹیکنالوجی کمیشن کے درمیان شراکت داری کے تحت منعقد کیا گیا۔ اس سے قبل پہلے ایڈیشن میں 32 شرکا نے حصہ لیا تھا، جس کے ذریعے یمنی عملے کی صلاحیتوں کو فروغ دیا گیا اور اس شعبے میں جدید سعودی مہارتوں سے استفادہ کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

یہ تربیتی پروگرام ادارہ جاتی صلاحیتوں کی تعمیر اور یمنی قومی افرادی قوت کی ترقی کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کی کارکردگی میں بہتری، تیز رفتار تکنیکی ترقی کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔یمن کی ترقی اور تعمیر نو کا سعودی پروگرام منصوبوں اور اقدامات کے ذریعے یمنی افرادی قوت کی صلاحیتوں میں اضافے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ادارہ جاتی، فنی اور سماجی صلاحیتوں کی یکساں تعمیر ہے۔سعودی پروگرام کے تحت جامع صلاحیت سازی کا پروگرام 2021کے وسط میں شروع کیا گیا تھا تاکہ یمنی وزارت منصوبہ بندی و بین الاقوامی تعاون اور یمنی وزارت خزانہ کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا سکے۔

اس کا مقصد یمنی سرکاری اداروں کو اپنی ضروریات کی تشخیص، صلاحیتوں کا جائزہ لینے، بنیادی فرائض کی انجام دہی اور مختلف حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کے قابل بنانا بھی ہے۔اسی سلسلے میں نومبر 2022میں یمنی اداروں کی صلاحیتوں کی تعمیر اور ترقی سے متعلق ایک ورکشاپ کی میزبانی کی گئی، جس میں آٹھ بین الاقوامی اور اقوام متحدہ سے وابستہ تنظیموں نے شرکت کی۔ یہ اقدامات یمن کے مختلف شعبوں کی معاونت کے لیے پروگرام کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہیں۔یمن کی ترقی اور تعمیر نو کے سعودی پروگرام کے تحت نافذ کیے گئے ترقیاتی منصوبوں اور اقدامات نے خواتین، نوجوانوں اور مقامی آبادی کی معاشی خودمختاری کے فروغ اور انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری میں بھی کردار ادا کیا ہے۔

اس پروگرام میں یمنی نوجوانوں کے لیے مستقبل کی تعمیر کے عنوان سے ایک پروگرام بھی شامل ہے، جبکہ متاثرہ برادریوں کے لیے ذریعہ معاش کی معاونت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ عملے کی صلاحیتوں میں اضافے کے منصوبے بھی اس کا حصہ ہیں۔پروگرام نے مختلف شعبوں کے عملے کے لیے متعدد تربیتی اور اہلیتی پروگرام بھی نافذ کیے ہیں، جن میں عرب بورڈ اور ریسپائریٹری کیئر اینڈ انٹینسیو کیئر کا ڈپلومہ شامل ہے۔ اس ڈپلومے نے صحت کی خدمات کے معیار اور دیکھ بھال کی سطح کو بہتر بنانے میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔

اسی طرح مختلف منصوبوں اور اقدامات کے ذریعے تعلیمی عملے کی صلاحیتوں کو بھی مضبوط بنایا گیا ہے۔ ان میں دیہی علاقوں میں تعلیم تک رسائی کا منصوبہ اور تدریس میں بین الاقوامی پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹس کا پروگرام شامل ہے، تاکہ تعلیم کے معیار کو بلند کیا جا سکے اور اسے بین الاقوامی معیارات کے مطابق بنایا جا سکے۔

یہ تمام ترقیاتی منصوبے اور اقدامات ایک وسیع فریم ورک کا حصہ ہیں، جس کے تحت 2018کے وسط میں پروگرام کے قیام کے بعد سے آٹھ اہم شعبوں میں 287 منصوبے اور اقدامات شروع کیے جا چکے ہیں۔ ان شعبوں میں تعلیم، صحت، توانائی، پانی، ٹرانسپورٹ، زراعت، ماہی گیری، ترقیاتی پروگراموں کے ساتھ ساتھ یمنی حکومت کی صلاحیتوں کی ترقی اور معاونت شامل ہیں۔

مزید خبریں