چین نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی جانب سے افغانستان میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں توسیع بارے چین کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کی منظوری کا خیر مقدم کیا ہے۔
چین کا افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کی مدت میں توسیع کا خیرمقدم

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔16جون (اے پی پی):چین نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی جانب سے افغانستان میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں توسیع بارے چین کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کی منظوری کا خیر مقدم کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو کونگ نے کہا کہ یہ قرارداد افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے)کے کام کے لیے سلامتی کونسل کی مضبوط حمایت کا مظہر ہے۔ انہوں نے ووٹنگ کے بعد بیان میں کہا کہ قراردادیو این اے ایم اے کے بنیادی مینڈیٹ کو برقرار رکھنے اور مضبوط بنانے کی عکاسی کرتی ہے، جن میں بین الاقوامی امداد کی ہم آہنگی، رابطہ کاری، ثالثی خدمات اور انسانی حقوق کے تحفظ کا فروغ شامل ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اس سےیو این اے ایم اے کو اپنی اہم ذمہ داریوں پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے، افغانستان میں زمینی صورتحال کے مطابق بہتر ردِعمل دینے اور عالمی برادری کے خدشات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں افغانستان کی معاشی اور انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور یو این اے ایم اے سے کہا گیا ہے کہ وہ عالمی برادری، خصوصاً روایتی عطیہ دہندگان، کو امداد بڑھانے کی ترغیب دے۔ اس کے علاوہ افغانستان کو انسانی بحران سے نمٹنے، واپس آنے والے مہاجرین کی بحالی، اقتصادی بحالی، علاقائی تعاون اور خود انحصاری کی صلاحیت مضبوط بنانے میں مدد فراہم کی جائے۔ چینی مندوب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قرارداد میں افغانستان کے مرکزی بینک کے اثاثوں تک رسائی میں سہولت فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ متعلقہ ممالک کو افغان اثاثے واپس کرنے اور افغانستان پر عائد یکطرفہ پابندیاں ختم کرنی چاہئیں تاکہ ملک کی تعمیرِ نو اور ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں افغانستان میں انسانی حقوق، بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ یو این اے ایم اے کو افغان حکام اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطہ جاری رکھتے ہوئے خواتین اور لڑکیوں کے تعلیم، صحت، روزگار، انصاف اور عوامی زندگی میں شرکت کے مساوی حقوق کے تحفظ کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
چینی مندوب نے امید ظاہر کی کہ افغان حکومت عوام اور عالمی برادری کی جائز توقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانی حقوق، خصوصاً خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید مثبت اقدامات کرے گی اور کشادگی، شمولیت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں افغانستان کے عالمی برادری میں دوبارہ شامل کرنے کی اہمیت اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
چین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ سلامتی کونسل کے دیگر اراکین کے ساتھ مل کر یو این اے ایم اے کی معاونت جاری رکھے گا تاکہ یہ مشن اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں انجام دے سکے اور افغانستان میں پائیدار امن و استحکام کے قیام میں کردار ادا کر سکے۔







