ایران امریکہ معاہدے میں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کاوشوں کو سراہتے ہیں، آئندہ بجٹ میں عوام کو ریلیف د یا جائے ، اپوزیشن و حکومتی اراکین سینٹ کا بجٹ پر بحث میں اظہار خیال

ایران امریکہ معاہدے میں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کاوشوں کو سراہتے ہیں، آئندہ بجٹ میں عوام کو ریلیف د یا جائے ، اپوزیشن و حکومتی اراکین سینٹ کا بجٹ پر بحث میں اظہار خیال

اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):اپوزیشن اور حکومتی اراکین سینٹ نے ایران امریکامعاہدے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اورآرمی چیف وچیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہا ہے اور آئندہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے پر زور دیا ہے۔ منگل کو ایوان بالا کے اجلاس میں وفاقی مالیاتی بجٹ 27 ۔ 2026 پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر بلال مندوخیل نے کہا کہ بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے، 8 ہزار ارب روپے صرف قرض پر سود کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے، سب سے زیادہ ٹیکس سرکاری ملازمین دیتے ہیں، ہمیں صحت، تعلیم، سائنس وٹیکنالوجی اور زراعت کے شعبوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، غریبوں پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے۔

سینیٹر عامرچشتی نے کہا کہ بجٹ میں مقامی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کی جائے،بیرون ملک سرمایہ کاری کوراغب کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں،ملکی معیشت میں کراچی کااہم کردار ہے، جنیوا میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے پر دستخط سے پاکستان سرخرو ہو گا، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور آرمی چیف وچیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بہترین کام کیا۔ سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ ملک معاشی مشکلات کا شکار ہے،ملک سے سودی نظام کاخاتمہ کیا جائے،اسلام آباد اعلامیہ پر پوری پاکستانی قوم اور تمام سیاسی جماعتوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،دنیا میں پاکستان کانام فخر سے بلند ہو گیا،پاکستان نے پوری دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچایا ہے۔

چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس معاہدے میں اہم کردار ادا کیا۔مولانا عطا ء الرحمن نے کہا کہ ملکی ترقی کے لئے معاشی استحکام اورامن ناگزیرہیں،معیشت امن کے بغیر نہیں چل سکتی،خیبرپختونخوا میں تمباکو پر ٹیکس لگایا گیا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم پر عمل کیاجائے۔سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں عوامی ریلیف کے متعدد اقدامات کئے گئے،معاشی مشکلات کے حل کے لئے ٹیکس نیٹ بڑھایا جائے۔ایران امریکامعاہدے میں پاکستان کے شاندار کردار اور کاوشوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ سینیٹ میں وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر مسرور احسن نے کہا کہ ملک کو مسلسل آئی ایم ایف پروگراموں پر انحصار سے نکالنے کے لئے موثر اور عوام دوست معاشی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی ایک بڑی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جبکہ بے روزگاری خصوصا ً نوجوانوں اور خواتین میں تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی دولت کا بڑا حصہ محدود طبقے کے پاس مرتکز ہے جبکہ عام آدمی مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا شکار ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر عوامی مسائل کے حل، غربت کے خاتمے اور معاشی استحکام کے لئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔

سینیٹر مسرور احسن نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل، معدنی ذخائر، زرعی زمینوں اور نوجوان افرادی قوت سے مالا مال ہے لیکن موثر منصوبہ بندی اور پالیسی سازی کے فقدان کے باعث ان وسائل سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ انہوں نے کراچی میں پانی کی قلت، کے فور منصوبے میں تاخیر اور لاگت میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کے بنیادی مسائل فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ انہوں نے فشریز، برآمدات اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے، برآمدات بڑھانے اور غربت کم کرنے کے لئے طویل المدتی معاشی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

 

مزید خبریں