موجودہ معاشی حالات میں وفاقی حکومت نے متوازن اور عوام دوست بجٹ پیش کیا، ناصر اقبال بوسال

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی ناصر اقبال بوسال نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج پوری دنیا کی نگاہیں پاکستان پر مرکوز ہیں اور ملک نے سفارتی و دفاعی محاذوں پر تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں

اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی ناصر اقبال بوسال نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج پوری دنیا کی نگاہیں پاکستان پر مرکوز ہیں اور ملک نے سفارتی و دفاعی محاذوں پر تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ منگل کو قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب گرین پاسپورٹ کی عزت پر سوال اٹھائے جاتے تھے لیکن مئی 2025 میں پاکستان کو اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے مقابلے میں عظیم فتح حاصل ہوئی اور اب 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا معرکہ سر کر کے پاکستان نے جو سفارتی کامیابی حاصل کی ہے، وہ قوموں کو صدیوں بعد نصیب ہوتی ہے۔ انہوں نے اس تاریخی کامیابی پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کی۔

بجٹ پر مثبت روشنی ڈالتے ہوئے ناصر اقبال بوسال نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں بجٹ 100 فیصد عوامی امنگوں کے مطابق نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ دستیاب وسائل کو دیکھ کر ہی تیار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان جن کٹھن حالات سے گزر رہا ہےان کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے ایک بہترین اور متوازن بجٹ پیش کیا ہے۔ انہوں نے حکومت کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے سپر ٹیکس ختم کر کے تاجر برادری کو بہت بڑا ریلیف اور سہولت فراہم کی ہے۔

رئیل اسٹیٹ میں خرید و فروخت پر ٹیکسز کم کئے گئے ہیں جس سے نہ صرف یہ کاروبار دوبارہ مستحکم ہوگا بلکہ لاکھوں بے روزگار افراد کو روزگار کے نئے مواقع ملیں گے۔ بطور عوامی نمائندہ زراعت کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے ناصر اقبال بوسال نے کسانوں کے بارے میں پائے جانے والے منفی تاثر کی سخت الفاظ میں تردید کی اور ریکارڈ درست کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ کسان ٹیکس نہیں دیتا، کسان ایک ذمہ دار شہری کی طرح دس مختلف جگہوں پر ٹیکس ادا کر رہا ہے جن میں مالیا اور آبیانہ، زرعی انکم ٹیکس، بجلی کے بلوں پر ٹیکسز اور عام اشیا کی خریداری پر سیلز ٹیکس شامل ہے ۔

انہوں نے ایوان کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ آج کا کسان زمین کا ٹھیکہ اور اخراجات نکالنے کے بعد اپنی جیب سے نقصان اٹھا رہا ہے لیکن اس کے باوجود وہ ملک کو خوراک فراہم کر رہا ہے، زراعت انبیا کا پیشہ ہے، کسان اپنی فصل تیار ہونے پر سب سے پہلے غیر کاشتکار طبقے اور مزدوروں کا معاوضہ ادا کرتا ہے اور بعد میں بچا ہوا رزق شکرانے کے ساتھ اپنے گھر لے جاتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ معیشت کو سہارا دینے والے اس طبقے کو مزید سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ملک مزید خود کفالت کی طرف بڑھ سکے۔

مزید خبریں