عدالتی نظام کی مؤثر کارکردگی کے لئے پیشہ وارانہ تربیت، دیانتداری اور غیر جانبداری کلیدی اہمیت رکھتی ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

عدالتی نظام کی مؤثر کارکردگی کے لئے پیشہ وارانہ تربیت، دیانتداری اور غیر جانبداری کلیدی اہمیت رکھتی ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدالتی نظام کی مؤثر کارکردگی کے لئے مسلسل پیشہ وارانہ تربیت، دیانتداری اور غیر جانبداری کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔

یہ بات انہوں نے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے سول ججز کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہی جو فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں ان سروس پری پروموشن ٹریننگ اور پروفیشنل ایکسچینج پروگرام کے تحت تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ وفد نے بطور سٹڈی ٹور سپریم کورٹ آف پاکستان کا دورہ بھی کیا۔

ملاقات میں فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل، خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر، سپریم کورٹ کے ڈائریکٹر جنرل ریفارمز اور قانون و انصاف کمیشن کے سیکرٹری بھی موجود تھے۔چیف جسٹس نے گفتگو کے دوران کہا کہ عدالتی ذمہ داریاں مسلسل ارتقا پذیر ہیں، اس لئے عدالتی اداروں اور اکیڈمیوں کا کردار ججز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں بہتری، فیصلوں میں یکسانیت اور عوامی اعتماد کے فروغ میں انتہائی اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ انصاف کی فراہمی صرف قانونی علم تک محدود نہیں بلکہ اس کے لئے دیانتداری، غیر جانبداری اور مضبوط عدالتی مزاج بھی ناگزیر ہے۔

ججز کو اپنی آئینی ذمہ داریوں کا ادراک رکھتے ہوئے انصاف کی بروقت اور منصفانہ فراہمی کو یقینی بنانا چاہئے۔چیف جسٹس نے شرکاء کو اعلیٰ پیشہ وارانہ معیار، عدالتی آزادی اور اخلاقی اصولوں کو اپنانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی نظام کی ساکھ اور مؤثریت کا انحصار ججز کی قابلیت، دیانت اور عزم پر ہوتا ہے۔ ملاقات کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا جبکہ ادارہ جاتی خیر سگالی کے طور پر تحائف کا تبادلہ کیا گیا۔

مزید خبریں