چراگاہیں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، مویشیوں کی پیداوار کے فروغ، آبی نظام، کاربن کے ذخیرے اور لاکھوں افراد کے معاشی وسائل کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، صدرِ مملکت آصف علی زرداری

چراگاہیں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، مویشیوں کی پیداوار کے فروغ، آبی نظام، کاربن کے ذخیرے اور لاکھوں افراد کے معاشی وسائل کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، صدرِ مملکت آصف علی زرداری

اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ چراگاہیں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، مویشیوں کی پیداوار کے فروغ، آبی نظام، کاربن کے ذخیرے اور لاکھوں افراد کے معاشی وسائل کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔صحرا زدگی اور خشک سالی سے نمٹنے کے عالمی دن کے موقع پر ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ رواں سال اس عالمی دن کا موضوع "چراگاہیں: پہچانیے، احترام کیجیے، بحال کیجیے” ہے، جو ان اہم ترین قدرتی وسائل کی جانب توجہ مبذول کراتا ہے جو پاکستان بھر میں لوگوں کے روزگار، غذائی تحفظ اور ماحولیاتی توازن کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ یہ یاددہانی ہماری چراگاہوں، ہمارے عوام کی فلاح و بہبود اور ہمارے ماحول سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چراگاہیں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، مویشیوں کی پیداوار کے فروغ، آبی نظام، کاربن کے ذخیرے اور لاکھوں افراد کے معاشی وسائل کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ یہ پاکستان کے ماحولیاتی اور معاشی منظرنامے کا ایک اہم حصہ ہیں، خصوصاً خشک، نیم خشک، پہاڑی علاقوں اور چراگاہوں کے لیے۔ یہ غذائی تحفظ اور دیہی آبادی کی فلاح و بہبود میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔صدر مملکت نے کہا کہ یہ اہم ماحولیاتی نظام موسمیاتی تبدیلی، متواتر خشک سالی، حد سے زیادہ چرائی، شہری پھیلاؤ، غیر پائیدار زمینی استعمال اور زمین کی تنزلی جیسے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ چراگاہوں کے زوال سے لوگوں کے روزگار متاثر ہوتے ہیں، غذائی نظام کمزور پڑتے ہیں اور موسمیاتی آفات کے مقابلے میں ہماری مزاحمت میں کمی آتی ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کے خشک اور نیم خشک علاقوں میں رہنے والے بہت سے خاندانوں کے لیے چراگاہیں ان کی روزمرہ زندگی پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ صحت مند چراگاہیں مویشیوں کی پرورش، گھریلو آمدنی کے استحکام اور مقامی سطح پر خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ اس لیے ان وسائل کا تحفظ صرف ایک ماحولیاتی ترجیح ہی نہیں بلکہ دیہی معاش کے فروغ اور مقامی معیشتوں کے استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہونے کے ناطے پاکستان اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ متاثرہ زمینوں کا بہتر انتظام اور بحالی ماحولیاتی استحکام، معاشی خوشحالی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے۔

حکومتِ پاکستان زمینی انتظامی طریقوں کے فروغ، خشک سالی سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافے، متاثرہ ماحولیاتی نظام کی بحالی اور جنگلات، چراگاہوں اور آبی گزرگاہوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ اس سال کا موضوع ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہماری چراگاہوں کا تحفظ مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں ان کی اہمیت کو تسلیم کرنا ہوگا، چرواہوں اور مقامی برادریوں کے روایتی علم اور ان کی نگہداشت کے کردار کا احترام کرنا ہوگا اور سائنسی بنیادوں اور کمیونٹی کی شمولیت پر مبنی طریقہ کار کے ذریعے مناظرِ قدرت کو بحال کرنا ہوگا۔

چراگاہوں میں سرمایہ کاری درحقیقت غذائی تحفظ، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، موسمیاتی مزاحمت اور مجموعی ترقی میں سرمایہ کاری ہے۔صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ اس اہم دن کے موقع پر میں تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پاکستان کی چراگاہوں ، قدرتی ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور بحالی کے لیے مل کر کام کریں۔

مستقل عزم اور عملی اقدامات کے ذریعے ہم زمین کی تنزلی اور خشک سالی کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں اور ان قیمتی وسائل کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اپنی چراگاہوں کو پہچان کر، ان کا احترام کر کے اور انہیں بحال کر کے ہم زمینی انتظام کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں اور ان وسائل کا تحفظ یقینی بنا سکتے ہیں جو پاکستان بھر میں لوگوں کے روزگار، غذائی تحفظ اور ماحولیاتی فلاح و بہبود کی بنیاد ہیں۔