قدرتی چراگاہیں گلہ بانی سمیت دیہی روزگار، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں ، وزیراعظم محمد شہباز شریف کا خشک سالی اور صحرائی پھیلائو کی روک تھام کے عالمی دن پر پیغام

قدرتی چراگاہیں گلہ بانی سمیت دیہی روزگار، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں ، وزیراعظم محمد شہباز شریف کا خشک سالی اور صحرائی پھیلائو کی روک تھام کے عالمی دن پر پیغام

اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے وسیع چراگاہوں کو ملک کا قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قدرتی چراگاہیں گلہ بانی سمیت دیہی روزگار، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں ، وفاقی حکومت نے زرخیز سکیم کے تحت لاکھوں چھوٹے کسانوں کےقرضوں کے لیے خطیر رقم مختص کی ہے، زرعی مشینری پر بھی سبسڈی دی جا رہی ہے تاکہ کسانوں کی پیشہ ورانہ استعداد میں اضافہ کیا جاسکے اور زرخیز زمین کی نگہداشت ہوسکے۔خشک سالی اور صحرائی پھیلائو کی روک تھام کے عالمی دن جو آج (بدھ کو) منایا جارہا ہے، کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ اس عالمی دن پر پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر زمین کی زرخیزی میں انحطاط، صحرائی پھیلائو اور خشک سالی کے تدارک کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ رواں سال یہ عالمی دن ’’قدرتی چراگاہیں: پہچانیں، احترام کریں، بحال کریں ‘‘ کے عنوان سے منایا جا رہا ہے۔

یہ عنوان غذائی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلی، آبی نظم و نسق اور مستحکم زرعی ذرائع معاش کے لیے قدرتی چراگاہوں کی غیر معمولی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے طول و عرض میں موجود وسیع چراگاہیں ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں۔ یہ قدرتی چراگاہیں مویشی پال اور دیگر دیہی روزگار، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، طویل خشک ادوار، آبی قلت، زرخیز زمین کا انحطاط جیسے چیلنجز قومی زرعی پیداوار اور قومی غذائی تحفظ کو متاثر کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان زمین کی بحالی، چراگاہوں کے متناسب استعمال و انتظام ، شجرکاری، ماحولیاتی نظام کے بحالی اقدامات، خشک سالی کے تدارک اور مقامی آبادی کی شمولیت پر مبنی جامع حکمت عملی کے ذریعے ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے پرعزم ہے۔ وفاقی حکومت نے زرعی معیشت کے استحکام اور ترقی کے لیے کاشتکاروں کی مالی معاونت کی غرض سے ’’زرخیز سکیم‘‘ متعارف کرائی ہے جس کے تحت کاشتکاروں کو بلاسود اور بغیر ضمانت کے قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنی زرعی زمین کی پیداواری صلاحیت اور تحفظ کے لئے اقدامات اٹھائیں۔

وفاقی حکومت نے زرخیز سکیم کے تحت لاکھوں چھوٹے کسانوں کےقرضوں کے لیے خطیر رقم مختص کی ہے۔ زرخیز سکیم کے تحت قرضوں کے علاوہ زرعی مشینری پر بھی سبسڈی دی جا رہی ہے تاکہ کسانوں کی پیشہ ورانہ استعداد کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ زرخیز زمین کی نگہداشت بھی کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر میں تمام متعلقہ سرکاری اداروں،وفاقی و صوبائی حکومت، جامعات، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور مقامی برادریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ زمینی وسائل کے تحفظ، بحالی اور دیر پا انتظام کے لیے اپنی مشترکہ کاوشوں کو مزید مضبوط بنائیں۔

انفرادی اور اجتماعی سطح پر شجر کاری اور باہمی تعاون کے ذریعے ہم موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے مقابلے میں اپنی مزاحمت بڑھا سکتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مستحکم اور خوشحال مستقبل یقینی بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئیے اس عزم کی تجدید کریں کہ ہم اپنی زرخیز زمین، جنگلات، قدرتی چراگاہوں کے تحفظ و بحالی کے لیے مل کر کام کریں گے۔