پشاورہائیکورٹ نے سینی ٹیشن کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر بیوروکریٹس کی تعیناتی کالعدم قرار دیتے ہوئے تقرریوں کا عمل قانون کے مطابق 3ماہ کے اندر مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔
پشاورہائیکورٹ نے سینی ٹیشن کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر بیوروکریٹس کی تعیناتی کو کالعدم قرار دےدیا

مزید خبریں
پشاور۔ 17 جون (اے پی پی):پشاورہائیکورٹ نے سینی ٹیشن کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر بیوروکریٹس کی تعیناتی کالعدم قرار دیتے ہوئے تقرریوں کا عمل قانون کے مطابق 3ماہ کے اندر مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔ پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے پبلک سیکٹر کمپنیز(واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی) کے چیف ایگزیکٹیو آفیسرز کے عہدوں پر سول سرونٹس کی تعیناتی کا حکومتی فیصلہ کالعدم قراردیتے ہوئے تقرریوں کا عمل قانون کے مطابق 3ماہ کے اندر مکمل کرنے کاحکم دیا گیا۔ جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل بنچ نے انجینئر محمد نعیم خان کی رٹ پر سماعت کے دوران موقف اختیار کیا کہ واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنیز پبلک سیکٹر کمپنیز ہیں، ان کا کام پانی کی سپلائی، صفائی، فضلہ و کچرہ ٹھکانے لگانا ہے ، جنہیں لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013کے تحت صوبے میں ریگولیٹ کیا گیا ہے۔شمائل احمد بٹ ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے کہ11اکتوبر2024کو نوٹیفیکیشن جاری کرکے سول سرونٹس ایکٹ 1973کے سیکشن 10کے تحت فریق 11سے 16تک کے سول سرونٹس کو سی ای اوز کے عہدوں پر لگایا گیا جو قانون کے خلاف ہے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے موقف اختیار کیاکہ سول سرونٹس کی ان عہدوں پر تقرری صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں ہے،عدالت نے تحریری فیصلے میں قراردیاکہ سیکشن 10کے تحت سول سرونٹ کہیں پر بھی حکومتی کارپوریشن یا باڈی میں کام کرسکتا ہے، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ صوبائی حکومت بغیر کسی اہلیت یا متعلقہ تجربہ تبادلے کے ذریعے سول سرونٹ کی تقرری کرے۔یہ سول سرونٹس رولز 1989اورپبلک سیکٹر کمپنیز گائیڈلائنز 2015سے بھی واضح ہے ، جس میں تقرری کا طریقہ کار اور اہلیت وضع ہے۔ صوبائی حکومت اپنے صوابدید اختیارات بھی قانون کے مطابق استعمال کرے گی لہذا سی ای اوز کے عہدوں پر سول سرونٹس کی تعیناتی غیرقانونی ہے اور قراردیا کہ ان عہدوں پر تقرری قانون کے مطابق کی جائے ۔ یاد رہے کہ سینی ٹیشن کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر عدالت نے بیوروکریٹس تعیناتی کالعدم قرار دےدی۔







