بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں،جنگلات اور مینگرووز خطرات سے دوچار

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں نے زندگی کے تمام شعبوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے

پشاور۔ 17 جون (اے پی پی):بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں نے زندگی کے تمام شعبوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ دیگر شعبوں کی طرح سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے پاکستان کے جنگلات اور ساحلی علاقوں میں موجود مینگرووز بھی خطرات سے دوچار ہیں۔ خیبر پختونخوا کے بالائی پہاڑی علاقوں کے لوگ ان خلافت ورزیوں کی وجہ سے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہری پور سے تعلق رکھنے والا 65 سالہ چرواہا عبدالرحمٰن بھی تشویش میں مبتلا ہے۔ شمالی خیبر پختونخوا کے بلند و بالا چیڑ اور دیودار کے جنگلات پر جب صبح کے وقت سورج کی کرنیں پڑتی ہیں، عبدالرحمٰن اپنے مویشیوں کے ریوڑ کو ایک تنگ پہاڑی راستے پر ہانکتے ہوئے ایک ایسی چراگاہ کی طرف لے جاتا ہے جہاں سے دریائے سندھ کا نظارہ دکھائی دیتا ہے۔

دریائے سندھ سے سیراب ہونے والے ایک تالاب سے اپنی بکریوں اور بھیڑوں کو پانی پلانے کے بعد عبدالرحمٰن اس بہتے ہوئے پانی کو دیکھنے کےلیے کچھ دیر رکتا ہے جس نے اس کی خاندان کی کئی نسلوں کو پال رکھا ہے۔ انہوں نے اے پی پی کو بتایا کہ ان کے والد اپنی پوری زندگی اپنے مویشیوں کےلیے دریائے سندھ پر انحصار کرتے رہے اور اب میں بھی یہی کر رہا ہوں۔ اگر سندھ بہتا رہے گا تو ہماری زندگیاں چلتی رہیں گی۔ اگر یہ کمزور پڑ گیا تو ہمارا مستقبل بہت غیر یقینی ہو جائے گا۔پاکستان بھر کے چرواہوں، کسانوں اور ماہی گیروں کےلیے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی غیر قانونی معطلی پر تشویش صرف سفارت کاری تک محدود نہیں بلکہ یہ بہت سے روزگار، غذائی تحفظ، لائیوسٹاک اور ملک کے ماحولیاتی نظام پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 1960 کے اس تاریخی معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے میں آنے والے مغربی دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں کوئی بھی بڑی رکاوٹ، موسمیاتی تبدیلی اور گلیشیئرز کے پگھلنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے شمال میں الپائن جنگلات اور جنوب میں مینگروو کے ماحولیاتی نظام پر دباؤ میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور شمالی پنجاب کے پہاڑی خطوں میں پھیلے ہوئے پاکستان کے الپائن اور سب الپائن جنگلات انتہائی اہم ماحولیاتی فرائض انجام دیتے ہیں اور فوڈ چین کا ایک بنیادی ذریعہ بنتے ہیں۔ یہ جنگلات واٹر سائیکلز کو منظم کرتے ہیں،

بارش اور برف باری کے امکانات کو بڑھاتے ہیں، پہاڑی ڈھلوانوں کو مستحکم رکھتے ہیں، کاربن کو ذخیرہ کرتے ہیں اور جنگلی حیات کی ایک وسیع رینج کو مسکن فراہم کرتے ہیں۔ سابق کنزرویٹر آف فارسٹس توحید الحق کے مطابق پہاڑی جنگلات کا گہرا تعلق دریاؤں کے مسلسل بہاؤ، برف باری کے رجحانات اور گلیشیئرز کے قابو میں رہ کر پگھلنے سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہاڑی ماحولیاتی نظام دریاؤں، گلیشیئرز اور موسمی بارشوں کے درمیان ایک نازک توازن پر زندہ رہتا ہے۔ہائیڈرولوجیکل نظام میں کوئی بھی خلل جنگلات کی صحت اور ماحولیاتی استحکام کو متاثر کر سکتا ہے۔ شمالی پاکستان کے جنگلات دیودار، بلیو پائن اور فر جیسے مشہور درختوں کے ساتھ ساتھ برفانی چیتے، مارخور، آئبیکس، شاہین اور ہمالین مونال جیسی جنگلی حیات کا مسکن ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین کو خدشہ ہے کہ پانی کی دستیابی میں طویل مدتی کمی جنگلات کی قوتِ مدافعت کو کمزور کر سکتی ہے،

انہیں کیڑوں اور بیماریوں کے خلاف حساس بنا سکتی ہے اور جنگل کی آگ کے خطرات کو بڑھا سکتی ہے۔ توحید الحق نے کہا کہ یہ جنگلات محض درخت نہیں ہیں۔ یہ مقامی معیشتوں، سیاحت، حیاتیاتی تنوع اور ثقافتی ورثے کو سہارا دیتے ہیں۔ ان کا زوال لاکھوں لوگوں کو متاثر کرے گا جس کے لیے عالمی بینک کو مداخلت کرنی چاہیے اور فاشسٹ مودی حکومت کو فوراً سندھ طاس معاہدہ بحال کرنے پر مجبور کرنا چاہیے۔ سوات کے علاقے کالام کے 65 سالہ کسان عطا اللہ خان کےلیے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کی وجہ سے ماحولیاتی تبدیلی ابھی سے نظر آ رہی ہے۔انہوں نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ جوان تھے تو کالام کے پہاڑوں پر مہینوں برف جمی رہتی تھی۔ آج سردیاں مختصر ہو گئی ہیں، گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور پانی کے رجحانات ناقابلِ پیش گوئی ہو چکے ہیں۔ہمیں فکر ہے کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں طول پکڑ گئیں تو ہماری آئندہ نسل کو ورثے میں کیا ملے گا۔

شمالی پاکستان میں مقامی لوگ مسلسل برف باری اور بارشوں کے بدلتے ہوئے رجحانات، سکڑتے ہوئے گلیشیئرز اور ندی نالوں کے بے قاعدہ بہاؤ کی رپورٹیں دے رہی ہیں۔ پہاڑی دیہات کے نوجوان بھی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے تناظر میں ماحولیاتی غیر یقینی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ مسلسل ماحولیاتی تنزلی بالآخر مستقبل کی نسلوں کو آبائی زمینیں چھوڑنے پر مجبور کر سکتی ہے تاکہ وہ زیادہ محفوظ روزگار تلاش کر سکیں اور اس سے شہروں میں شہری خدمات درہم برہم ہو جائیں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کالام، ناران اور نتھیا گلی جیسے مقبول سیاحتی مقامات کا انحصار بڑی حد تک ان خوبصورت جنگلات، دریاؤں اور پہاڑی مناظر پر ہے جو ملک بھر سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔توحید الحق نے خبردار کیا کہ اگر جنگلات زوال پذیر ہوئے اور دریا کمزور پڑ گئے تو سیاحت متاثر ہوگی اور اس سے جڑے ہزاروں روزگار بھی خطرے میں پڑ جائیں گے۔ ماحولیاتی سائنسدانوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے جنگلات، گلیشیئرز اور دریا مل کر ایک باہم جڑا ہوا ماحولیاتی نظام بناتے ہیں۔

پشاور یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیاتی علوم کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر سلیم الرحمٰن نے کہا کہ نظام کے ایک حصے میں خلل لازمی طور پر دوسرے حصوں کو متاثر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگلات، گلیشیئرز اور دریا آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔جب ایک جزو دباؤ کا شکار ہوتا ہے تو اس کے نتائج پورے منظر نامے پر پھیل جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، غیر قانونی کٹائی، آبادی کا دباؤ اور بارشوں کے بدلتے ہوئے رجحانات پہلے ہی پہاڑی ماحولیاتی نظام پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ تاہم ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے اور غذائی تحفظ کو سہارا دینے کےلیے اپر انڈس بیسن میں صحت مند دریائی نظام کو برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے۔ اگرچہ توجہ اکثر شمالی پاکستان پر مرکوز رہتی ہے، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ماحولیاتی نتائج سینکڑوں کلومیٹر دور نیچے سندھ میں ڈیلٹائے سندھ تک پھیل سکتے ہیں۔ یہ ڈیلٹا دنیا کے سب سے بڑے خشک آب و ہوا والے مینگروو کے ماحولیاتی نظاموں میں سے ایک کی میزبانی کرتا ہے جو سمندری طوفانوں اور ساحلی کٹاؤ کے خلاف ایک قدرتی رکاوٹ کا کام کرتا ہے جبکہ مچھلیوں، جھینگوں اور دیگر سمندری انواع کےلیے افزائشِ نسل کی جگہ فراہم کرتا ہے۔ ڈاکٹر سلیم الرحمٰن نے کہا کہ مینگروو کے جنگلات کا انحصار دریائے سندھ سے آنے والے میٹھے پانی اور بحیرہ عرب کے نمکین پانی کے درمیان ایک نازک توازن پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میٹھے پانی کے بہاؤ میں کمی آتی ہے تو سمندری پانی کی مداخلت بڑھ جاتی ہے۔

اس سے نمکیات کی سطح بڑھ جاتی ہے، صحرا زدگی تیز ہوتی ہے، حیاتیاتی تنوع کم ہوتا ہے اور ماہی گیری کو خطرہ لاحق ہوتا ہے جو ہزاروں خاندانوں کی کفالت کرتی ہے۔ مینگرووز ساحلی علاقوں کے آبادیوں کو طوفانوں سے بچانے کے ساتھ ساتھ مقامی ماہی گیری کی معیشت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ میٹھے پانی کی کم دستیابی، سمندر کی سطح میں اضافے، ساحلی کٹاؤ اور موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ مل کر ڈیلٹا کے ماحولیاتی نظام کی تنزلی کو تیز کر سکتی ہے۔ ڈاکٹر سلیم الرحمٰن نے کہا کہ مینگرووز کی صحت کا براہ راست تعلق دریا کی صحت سے ہے۔ جب دریا کا بہاؤ کمزور ہوتا ہے، تو پورا ڈیلٹا اس کے نتائج بھگتتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دریا کے بہاؤ کو برقرار رکھنا نہ صرف زراعت اور بجلی کی پیداوار کےلیے ضروری ہے بلکہ پاکستان کے جنگلات، جنگلی حیات اور ساحلی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کےلیے بھی ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی پائیداری،کلائمیٹ ریزیلینس اور حیاتیاتی تنوع کا تحفظ بڑے ہدف کے طور پر پورے سندھ طاس میں پانی کے صحت مند نظام کو برقرار رکھنے پر منحصر ہے۔

جیسے ہی ہری پور میں شام ڈھلتی ہے اور دریائے سندھ کے اوپر بادل جمع ہوتے ہیں، عبدالرحمٰن دریا کو پہاڑوں سے خیبر پختونخوا اور پنجاب کے میدانوں کی طرف اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے دیکھتا ہے۔ ان بے شمار لوگوں کی طرح جن کا روزگار اس کے پانیوں سے جڑا ہوا ہے، اسے امید ہے کہ دریا کا مستقبل محفوظ رہے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم روزانہ معاہدوں کے بارے میں نہیں سوچتے۔ ہم پانی، درختوں اور اس بات کے بارے میں سوچتے ہیں کہ آیا ہمارے بچے یہاں اس طرح رہ سکیں گے جیسے ہم رہے ہیں۔ فی الحال شمالی پاکستان کے جنگلات اب بھی سرسبز ہیں اور دریا بہہ رہے ہیں۔ تاہم ان آبادیوں کےلیے جن کی زندگیاں ان قدرتی نظاموں کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں، ایک ایسے مستقبل پر غیر یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں جو ماحولیاتی دباؤ اور ان پانیوں کی تقدیر سے طے ہو رہا ہے جنہوں نے صدیوں سے ان کا ساتھ دیا ہے۔

مزید خبریں