نئے مالی سال کا بجٹ ٹیکس فری ہے ، ملازمین کی تنخواہوں وپنشن کی مد میں7فیصد اضافہ کیاگیاہے ،وزیر خزانہ بلوچستان

صوبائی وزیر خزانہ بلوچستان میر شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ نئے مالی سال کابجٹ ٹیکس فری ہے ،ملازمین کی تنخواہوں وپنشن کی مد میں7فیصد اضافہ کیاگیاہے

کوئٹہ۔ 17 جون (اے پی پی):صوبائی وزیر خزانہ بلوچستان میر شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ نئے مالی سال کابجٹ ٹیکس فری ہے ،ملازمین کی تنخواہوں وپنشن کی مد میں7فیصد اضافہ کیاگیاہے ،نئی الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس، پبلک جائیداد کی بیمہ سیلز ٹیکس معاف،ہوٹلوں کا ٹیکس ختم ،کیپٹل ویلیو ٹیکس اور اسٹام پیپر ڈیوٹی 1فیصد کم،غریب گھرانوں کی رہائش کے لیے لو کاسٹ ہائوسنگ پراجیکٹ کیلئے2ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔بدھ کو بلوچستان اسمبلی میں نئے مالی سال2026-27ء کا بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہاکہ نئے مالی سال2026-27کے بجٹ میں مختلف نوعیت کے اہم فلاحی اقدامات اُٹھائے جا رہے ہیں۔ جن میں سے چند اہم اقدامات معزز ایوان کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔عوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے ہماری حکومت نے درج ذیل فلاحی اقدامات کئے ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے بلوچستان صوبائی حکومت نے مشکل مالی حالات کے باو جود وفاق کے طرز پر صوبائی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7فیصد اضافہ کیا ہے۔ صوبائی حکومت بلوچستان کے ہر ضلع میں نوجوانوں کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کرنے جا رہی ہے(جامع ضلعی روزگار و ذریعۂ معاش منصوبہ) جس سے صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے اور ان پلانز کے ذریعے ہر ضلع میں مو جود مسائل اور رکاوٹوں کا تکنیکی احاطہ کیا جائے گااور سماجی و معاشی اقدامات کے ذریعے ہر ضلع کی ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔یہ بجٹ’’ ٹیکس فری بجٹ‘‘ ہے جس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں ہے۔پبلک ٹرانسپورٹ پر سیلز ٹیکس معاف کیا گیا ہے ۔نئی الیکٹرک گاڑیوں پر100 فیصد ٹیکس معاف کیا گیاہے۔پبلک جائیداد کی بیمہ پر سیلز ٹیکس معاف کیا گیا ہے۔ صوبے میں صنعتی ترقی کے لئے ایکسپورٹ پراسسنگ زون میں بیرونی انوسٹمنٹ پر تمام صوبائی ٹیکسوں کو معاف کیا گیا ہے۔ تعلیمی خدمات پر سیلز ٹیکس0فیصد کر دیا ہے۔ ہوٹل ٹیکس کا1965 کا قانون اور ہوٹلوں پر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔ رئیل اسٹیٹ کے کاروبارکو فروغ دینے کے لئے حکومت نے جائیداد کی منتقلی پر عائد کیپٹل ویلیو ٹیکس اور سٹامپ ڈیوٹی کی شرح 2فیصدسے کم کرکے 1فیصدکردی ہے۔ وزیرِاعلیٰ کی مائیکرو فنانس سکیم کے تحت 1 بلین روپے بلا سودقرضے کی فراہمی اور عوامی فلاح کے لیے عوامی انڈومنٹ فنڈکے لیے3 .1 بلین روپےمختص کیے گئے ہیں۔ بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ فنڈکے زریعے مستحق طلباء و طالبات کی معاونت جاری رکھنے کیلئے2.82بلین روپے مختص ہیں ۔ واشک ڈویلپمنٹ پلان کے طرز پر اس سال موسٰی خیل ڈویلپمنٹ پلان کا منصوبہ ہے۔کوہِ سلیمان ڈویژن کا قیام ۔ بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے لیے 1.5بلین روپےکامزید اضافہ کیا گیاہے۔500الیکٹرک ویل چئرزکی خریدو تقسیم کے لیے200 ملین مختص ہیں۔ عوام کو ٹرانسپورٹ کی بہتر سروس فراہم کرنے کے لیے گرین اور پنک بسس کے فیڈر روٹس اور بس سٹاپس میں توسیع۔اسی کے ساتھ ساتھ پیپلز ٹرین سروس اور الیکٹرک بسوں کا بھی آغاز کیا جائے گا۔خواتین کی معاشی خود مختاری اور ویمن انٹرپینوررکو فروغ دینے کے لیے خواتین کے لئے بلا سود قرضوں کی فراہمی ۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں کے انکیوبیشن سنٹرزاور منی سپورٹس کمپلیکس مند کے قیام کے لئے 200 ملین روپےمختص۔عوام کے لئے ا سپیشل سپورٹ پروگرام کیلئے 600 ملین روپےمختص ہیں۔شہید بے نظیر بھٹو سکالرشپ کے لئے 54ملین مختص ہیں۔نوجوانوں میں ڈیجیٹل سکلز اُجاگر کرنے کے لئے ڈیجی بزکے لیے 1.7 بلین روپے مختص ہیں،غریب گھرانوں کی رہائش کے لیے کم لاگت ہائوسنگ منصوبہ کی مد میں 2بلین روپے رکھے گئے ہیں۔ صوبے کے تمام یونین کونسلزمیں صاف پینے کے پانی کی فراہمی کے لئے جامعہ منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ تمام اضلاع میں پھل،سبزی،غلہ، مویشی منڈیوں اور بس ٹرمینلز کی جدیدسہولیات فراہم کی جائیں گی۔ عوامی شکایات کے بر وقت ازالے کیلئے نظام قائم کیا جائے گا۔ آئندہ مالی سال 2026-27میں بلوچستان کے نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مجموعی طورپر5000 نئی آسامیاں مختلف سرکاری محکموں میں تخلیق کی جائیں گی ۔

مزید خبریں