کل مسالک علما بورڈ نے محرم الحرام میں قیام امن کیلئے 15 نکاتی ضابطہ اخلاق جاری کر دیا

کل مسالک علما بورڈ کے جید علما کرام اور تمام مکاتب فکر کے علما نے محرم الحرام کے حوالے سے ضابطہ اخلاق جاری کرتے ہوئے تمام علما ، دینی مدارس ، ارباب منبر و محراب اور اساتذہ کرام سے درخواست کی ہے کہ وہ محرم الحرام کے دوران امن

لاہور۔17جون (اے پی پی):کل مسالک علما بورڈ کے جید علما کرام اور تمام مکاتب فکر کے علما نے محرم الحرام کے حوالے سے ضابطہ اخلاق جاری کرتے ہوئے تمام علما ، دینی مدارس ، ارباب منبر و محراب اور اساتذہ کرام سے درخواست کی ہے کہ وہ محرم الحرام کے دوران امن ، بین المسالک ہم آہنگی اور باہمی تعاون کو یقینی بناتے ہوئے اس ضابطہ اخلاق پر عمل کریں ۔ کل مسالک علما بورڈ کے مرکزی سیکرٹریٹ جامع مسجد کبری سمن آبادسے کل مسالک علما بورڈ کے چیئرمین مولانا محمد عاصم مخدوم اور انٹرنیشنل ریسرچ کونسل فار ریلیجنز افیئر کے چیئرمین مولانا محمد اسرار مدنی نے متفقہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ کل مسالک علما بورڈ اور انٹرنیشنل ریسرچ کونسل۔ملی یکجہتی کونسل کے اعلامیہ سمیت ، متحدہ علما بورڈ اور اسلامی نظریاتی کونسل کے تمام ضابطہ ہائے اخلاق کی تائید کرتی ہے اور تمام شہریوں سے اپیل کرتی ہے کہ محرم کے مبارک ایام میں امن اور ہم آہنگی کو یقینی بنائیں ۔متفقہ اعلامیہ کے نکات کچھ میں کہا گیا ہے کہ ہر فرد ریاست کے خلاف لسانی، علاقائی، مذہبی اور فرقہ وارانہ تعصبات کی بنیاد پر چلنے والی تحریکوں کا حصہ بننے سے گریز کرے۔2کوئی شخص فرقہ وارانہ نفرت، مسلح فرقہ وارانہ تنازعہ اور جبرا اپنے نظریات کسی دوسرے پر مسلط نہ کرے کیونکہ یہ شریعت کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔

3-کوئی نجی یا سرکاری یا مذہبی تعلیمی ادارہ عسکریت کی تبلیغ نہ کرے، ۔4 انتہا پسندی، فرقہ واریت اور تشدد کو فروغ دینے والوں، خواہ وہ کسی بھی تنظیم یا عقیدے سے ہوں، کے خلاف سخت انتظامی اور تعزیری اقدامات کیے جائیں گے۔5.اسلام کے تمام مکاتب فکر کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے اپنے مسالک اور عقائد کی تبلیغ کریں، مگر کسی کو کسی شخص، ادارے یا فرقے کے خلاف نفرت انگیزی یا بے بنیاد الزامات لگانے کی اجازت نہیں ہوگی۔6.کوئی شخص خاتم النبیین حضرت محمدصلی اللہ علیہ و سلم، جملہ انبیا کرام امہات المومنین، اہلِ بیت اطہار، خلفا راشدین اور صحابہ کرام کی توہین نہیں کرے گا۔7.کوئی شخص کسی مسلمان کی تکفیر نہیں کرے گا اور صرف مذہبی سکالر ہی شرعی اصولوں کی وضاحت مذہبی نظریے کی اساس پر کرے گا)8.کوئی شخص کسی قسم کی دہشت گردی کو فروغ نہیں دے گا، دہشت گردوں کی ذہنی و جسمانی تربیت نہیں کرے گا، 9-سرکاری، نجی اور مذہبی تعلیمی اداروں کے نصاب میں اختلافِ رائے کے آداب کو شامل کیا جائے گا کیونکہ فقہی اور نظریاتی اختلافات پر تحقیق کرنے کے لیے سب سے موزوں جگہ صرف تعلیمی ادارے ہوتے ہیں۔10- تمام مسلم شہری اور سرکاری حکام اپنے فرائض کی انجام دہی اسلامی تعلیمات اور دستور پاکستان کی روشنی میں کریں گے۔

11-بزرگ شہریوں، خواتین، بچوں، خنثی اور دیگر تمام کم مستفیض افراد کے حقوق کے حوالے سے اسلامی تعلیمات ہر سطح پر دی جائیں گی۔12-پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب اور مذہبی رسومات کی ادائیگی اپنے اپنے مذہبی عقائد کے مطابق کریں۔13-اسلام خواتین کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خواتین سے ان کے ووٹ، تعلیم اور روزگار کا حق چھینے اور ان کے تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچائے۔14 کوئی شخص مساجد، منبر و محراب، مجالس اور امام بارگاہوں میں نفرت انگیزی پرمبنی تقاریر نہیں کرے گا ۔15-آزادی اظہار اسلام اور ملکی قوانین کے ماتحت ہے، اس لیے میڈیا پر ایسا کوئی پروگرام نہ چلایا جائے جو فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کا سبب بنے اور پاکستان کی اسلامی شناخت کو مجروح کرے۔

مزید خبریں