وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے مالی سال 2026-27 کے لیے 3562ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا جبکہ متوقع وصولیاں تقریباً 3525 ارب روپے ہیں
سندھ کا 3562 ارب روپے کا بجٹ پیش، سرکاری ملازمین کی تنخوا اور پینشن میں 7 فیصد اضافہ، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا

مزید خبریں
کراچی۔ 17 جون (اے پی پی):وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے مالی سال 2026-27 کے لیے 3562ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا جبکہ متوقع وصولیاں تقریباً 3525 ارب روپے ہیں، جس کے نتیجے میں 36.9 ارب روپے خسارے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ، 720 ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام، 13.2 ارب روپے کا سماجی تحفظ پیکیج اور سندھ کو تجارت، مالیات، ٹیکنالوجی اور قابلِ تجدید توانائی کا علاقائی مرکز بنانے کے لیے متعدد طویل المدتی اقدامات شامل ہیں۔
سندھ اسمبلی میں بدھ کے روز بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر اعلی مراد شاہ نے کہا کہ صوبے نے اپنا مالی منصوبہ ایسے عالمی اور ملکی ماحول میں تیار کیا ہے جو جغرافیائی سیاسی کشیدگی، افراطِ زر کے دباؤ، موسمیاتی خطرات اور معاشی غیر یقینی صورتحال سے عبارت ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معیشت میں بحالی کے آثار نمایاں ہوئے تاہم عام شہری اب بھی بڑھتی ہوئی مہنگائی، توانائی کی قیمتوں اور افراطِ زر کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے سندھ کی بجٹ حکمتِ عملی چار اصولوں پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تقریباً 3562 ارب روپے کے مجموعی اخراجات جبکہ تقریباً 3525 ارب روپے کی متوقع وصولیوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 36.9 ارب روپے خسارے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ سندھ کے بجٹ کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے اور صوبائی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے 3562 ارب روپے کے اخراجات تجویز کئے گئے ہیں، جو مالی سال 2025-26 کے 3.442 ٹرلین روپے کے مقابلے میں 210 ارب روپے زیادہ ہے۔
یہ اضافہ ترقیاتی اخراجات، سماجی خدمات اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری پر حکومت کی توجہ کو ظاہر کرتا ہے۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ طے شدہ انتظام کے تحت قومی اسٹریٹجک ضروریات میں حصہ ڈالنے کے بعد صوبائی حکومت کو اپنا ترقیاتی پروگرام 575 ارب روپے کے متوقع حجم سے کم کر کے 400 ارب روپے تک محدود کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل مالی حالات کے باوجود ہم نے ترجیحی ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمات کا تحفظ کیا ہے جو براہِ راست عوام کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ آئندہ مالی سال میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا، بلکہ تعلیم، زراعت، انشورنس اور روزگار کے شعبوں کی معاونت کے لیے متعدد ریلیف اقدامات متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ اعلان کردہ اقدامات میں تعلیمی معاونتی خدمات پر سیلز ٹیکس کم کر کے پانچ فیصد کرنا، بیرونِ ملک روزگار فراہم کرنے والی بھرتی ایجنسیوں اور پوائنٹ آف سیل نظام سے منسلک بیوٹی سیلونز کے لیے رعایتی ٹیکس شرح برقرار رکھنا اور انشورنس ایجنٹس و بروکرز پر عائد ٹیکسوں میں کمی شامل ہے۔ بجٹ میں زرعی شعبے کے لیے بھی ریلیف فراہم کیا گیا ہے، جس کے تحت زرعی سپر ٹیکس سے استثنا کی حد 15 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کر دی گئی ہے، جبکہ ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔
سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے خوش آئند اقدام کے طور پر مراد شاہ نے تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافے کا اعلان کیا۔ تنخواہوں میں سات فیصد اضافہ ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2022 اور 2025 کو ضم کر کے بھی دیا گیا ہے۔ کم از کم اجرت بھی 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 43 ہزار روپے ماہانہ کر دی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کمزور اور محروم طبقات کو معاشی مشکلات سے بچانے کے لیے پُرعزم ہے اور 13.2 ارب روپے کے سماجی تحفظ پیکیج کا اعلان کیا، جس میں کچن گارڈن اقدام، بینظیر ہاری کارڈ پروگرام، بینظیر ویمن ایگریکلچر ورکرز پروگرام اور بیواؤں و یتیموں کے لیے امدادی اسکیمیں شامل ہیں۔
ترقیاتی شعبے میں مالی سال 2027 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت تعلیم کے لیے 25.9 ارب روپے، صحت کے لیے 17.4 ارب روپے، بلدیات اور میونسپل انفراسٹرکچر کے لیے 121.6 ارب روپے، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے لیے 40.9 ارب روپے، آبپاشی کے لیے 30.9 ارب روپے، ٹرانسپورٹ و مواصلات کے لیے 39.5 ارب روپے اور زراعت و لائیو اسٹاک کے لیے 6.3 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے نے رواں مالی سال کے دوران اپنی تاریخ کے سب سے زیادہ ترقیاتی اخراجات کیے اور افراطِ زر اور تعمیراتی لاگت میں اضافے کے باوجود ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے 900 ارب روپے سے زائد جاری کیے گئے۔
2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز پروگرام کے تحت اب تک 10 لاکھ مکانات مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ تقریباً 17 لاکھ رہائشی یونٹس کے لیے مالیاتی انتظامات بھی حاصل کر لیے گئے ہیں، جن میں بین الاقوامی معاونت کی مالیت 1.675 ارب امریکی ڈالر ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس پروگرام نے لاکھوں مستفید خواتین کو زمین کی ملکیت کے حقوق منتقل کر کے انہیں بااختیار بھی بنایا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر کے قیام کے منصوبے کا اعلان کیا۔
مجوزہ مرکز کو سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر فنانس، اسلامی فنانس، کلائمیٹ فنانس، فِن ٹیک اور بین الاقوامی تجارتی خدمات کے لیے عالمی معیار کے پلیٹ فارم کے طور پر تصور کیا گیا ہے۔ حکومت قانونی، ضابطہ جاتی اور ادارہ جاتی فریم ورک تشکیل دینے کا ارادہ رکھتی ہے، جن میں جدید تجارتی عدالتیں، ثالثی مراکز اور سرمایہ کار دوست ضوابط شامل ہوں گے، تاکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی کے تجارتی راہداری علاقے میں تین ممکنہ مقامات کی نشاندہی پہلے ہی کی جا چکی ہے اور بین الاقوامی معیار کی قابلِ سرمایہ کاری فزیبلٹی اسٹڈی کے لیے فنڈز بھی مختص کر دیے گئے ہیں۔








