امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے ڈیل ہوگئی ہے اور تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں،آبنائے ہرمز کھلنے جارہی ہے
اگر ڈیل نہ کرتے تو آبنائے ہرمز نہ کھلتی اور بمباری ہفتوں یا مہینوں چلتی رہتی،مذاکرات کے لیے پاکستان اور قطر نے بہت کام کیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

مزید خبریں
ایوین لس بینز (فرانس)۔17جون (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے ڈیل ہوگئی ہے اور تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں،آبنائے ہرمز کھلنے جارہی ہے، اگر ڈیل نہ کرتے تو آبنائے ہرمز نہ کھلتی اور بمباری ہفتوں یا مہینوں چل سکتی تھی، مذاکرات کے لیے پاکستان اور قطر نے بہت کام کیا، معاہدے سے پورے مشرق وسطیٰ میں امن آئے گا،میں جنگ جاری رکھ سکتا تھا لیکن میں پوری دنیا میں کساد بازاری نہیں چاہتا، جیسے ہی ہم امن کی بات کرتے ہیں اسٹاک مارکیٹ راکٹ کی طرح اوپر جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران راضی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنائے گا نہ حاصل کرے گا، ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روک کر پوری دنیا کو تباہی سے بچایا ہے، جوہری ذخائر سے متعلق تکنیکی بات چیت بھی جلد شروع ہوجائے گی، ہم ایران سے افزودہ جوہری مواد نکال کر ناکارہ بنائیں گے۔ ایران کی تعمیرِ نو کے لئے فنڈز اُسی صورت ملیں گے جب وہ درست اقدامات کرے گا۔ ایران کو جنگ سے 2 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے، ایران کو سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، پڑوسی ممالک یا کچھ اور لوگ اس مد میں مدد کرسکتے ہیں۔ ایران کی نئی قیادت زیادہ سمجھدارہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں جی سیون اجلاس کے اختتام پر پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اگر ایران معاہدے پر قائم نہ رہا تو اس پر دوبارہ بمباری کی جا سکتی ہے۔اگر ایران نے ’خود کو قابو میں نہ رکھا تو اسے دوبارہ حملے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔ امریکہ ایران کو کوئی رقم فراہم نہیں کرے گا۔ آئندہ مذاکرات میں خلیجی ممالک بھی شامل ہوں گے اور بات چیت کا مرکز ایران کے ’روایتی بیلسٹک میزائل‘ سمیت ’غیر جوہری امور‘ ہوں گے ۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ سب تباہ ہوچکی ہے، ایران کی قیادت ختم ہوچکی، ایران میں رجیم چینج ہوچکی، نئی قیادت آگئی ہے جو اسمارٹ ہے۔ جی سیون ممالک سے ایران معاہدے کی تفصیلات پر بات کی ہے، جی سیون ممالک بہت خوش ہیں کہ ہم نے ایران سے معاہدہ کر لیا ہے،کسی ایک ملک نے بھی بمباری جاری رکھنے کا نہیں کہا۔امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم کے حوالے سے کہا کہ نیتن یاہو سے لبنان کے معاملے پر اختلاف ہے۔نیتن یاہو بعض اوقات کچھ جذباتی ہوجاتا ہے۔ مفاہمتی یادداشت کی ایک کاپی اسرائیل کو بھیجی ہے۔







