پاکستان نے عالمی روزگار کے لئے 2 لاکھ 15 ہزار 719 کارکنوں کو تربیت فراہم کی

پاکستان نے جولائی تا مارچ مالی سال 2025-26 کے دوران عالمی لیبر مارکیٹوں میں کارکنوں کی مطابقت، پیداواری صلاحیت اور ملازمت کے مواقع بہتر بنانے کے لئے 2 لاکھ 15 ہزار 719 افراد کو سافٹ سکلز کی تربیت فراہم کی

اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):پاکستان نے جولائی تا مارچ مالی سال 2025-26 کے دوران عالمی لیبر مارکیٹوں میں کارکنوں کی مطابقت، پیداواری صلاحیت اور ملازمت کے مواقع بہتر بنانے کے لئے 2 لاکھ 15 ہزار 719 افراد کو سافٹ سکلز کی تربیت فراہم کی۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق تربیتی پروگرام کا مقصد کارکنوں کی نرم مہارتوں (سافٹ سکلز) کو بہتر بنانا تھا تاکہ وہ کام کے ماحول سے بہتر طور پر ہم آہنگ ہو سکیں، اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کر سکیں اور عالمی آجرین کی ضروریات پوری کر سکیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی لیبر مارکیٹ کی توسیع کے لئے ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران ملک کی آبادی تقریباً 25 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ گئی جن میں 15 سے 29 سال عمر کے 6 کروڑ 69 لاکھ 60 ہزار نوجوان شامل ہیں۔بیرون ملک روزگار کے فروغ کے لئے اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (او ای سی) نے جرمن ادارے جی آئی زیڈ کے تعاون سے ایک سینٹر آف ایکسیلنس قائم کیا ہے جو بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد کو ون ونڈو مائیگریشن ایڈوائزری اور صلاحیت سازی کی خدمات فراہم کرتا ہے۔رپورٹ میں ڈیجیٹل ایچ آر پول سسٹم کے فعال ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں بائیومیٹرک تصدیق، ملازمتوں کا ملاپ اور شفاف بھرتی کے طریقہ کار شامل ہیں۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد پاکستانی کارکنوں کو بیرون ملک آجرین سے زیادہ مؤثر انداز میں منسلک کرنا اور بھرتی کے عمل میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔رپورٹ کے مطابق اوورسیز روزگار کے شعبے میں نگرانی کو مضبوط بنانے کی کوششیں بھی جاری رہیں۔ جولائی تا مارچ مالی سال 2025-26 کے دوران شکایات کی بنیاد پر 82 اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے لائسنس منسوخ جبکہ چار لائسنس معطل کئے گئے۔ یہ اقدامات ہجرت اور بیرون ملک روزگار کے نظام کی کارکردگی اور ساکھ بہتر بنانے کے لئے کئے گئے۔رپورٹ کے مطابق لیبر مارکیٹ میں اصلاحات کو تیزی سے ٹیکنالوجی پر مبنی حلوں کے ساتھ مربوط کیا جا رہا ہے تاکہ روزگار کے مواقع تک رسائی بہتر بنائی جا سکے اور بھرتی کے نظام میں موجود غیر ضروری رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے۔مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی برسرِ روزگار افرادی قوت 7 کروڑ 72 لاکھ رہی جبکہ لیبر فورس میں شمولیت کی شرح 46.3 فیصد تک پہنچ گئی جو ملک کے اندر اور بیرون ملک مزید روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیرون ملک روزگار گھریلو آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے اور ترسیلاتِ زر میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے، جو ملک کے بیرونی شعبے کو سہارا فراہم کرتی ہیں۔وزیراعظم یوتھ سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام اور وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم جیسے حکومتی پروگرام بھی افرادی قوت کی مہارتوں کو ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق مہارتوں کی ترقی، لیبر مارکیٹ اصلاحات اور ڈیجیٹل روزگار پلیٹ فارمز میں مسلسل سرمایہ کاری پاکستانی کارکنوں کی عالمی منڈیوں میں مسابقت بڑھانے کے لئے نہایت اہم ہوگی۔