نوجوانوں کو گنجا کرکے ویڈیو وائرل کرنے کا معاملہ رپورٹ طلب

لاہور ہائیکورٹ نے گوجرانوالہ میں زیر حراست نوجوانوں کو ہتھکڑیاں لگا کر گنجا کرنے اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے معاملے میں آر پی او گوجرانوالہ سے23 جون کو رپورٹ طلب کر لی۔جسٹس علی ضیا باجوہ نے محمد عمر کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی

لاہور۔19جون (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے گوجرانوالہ میں زیر حراست نوجوانوں کو ہتھکڑیاں لگا کر گنجا کرنے اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے معاملے میں آر پی او گوجرانوالہ سے23 جون کو رپورٹ طلب کر لی۔جسٹس علی ضیا باجوہ نے محمد عمر کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ احمد شیر جٹ پیش ہوئے۔ وکیل درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے زیر حراست ملزمان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر جاری کرنے سے روکا ہوا ہے لیکن اس کے باوجود گوجرانوالہ پولیس نے نوجوانوں کو گرفتار کرکے ان کے بال مونڈے اور ویڈیوز وائرل کیں۔سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کے کسی سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایسی ویڈیو اپ لوڈ نہیں کی گئی، جبکہ یہ بھی ممکن ہے کہ نوجوانوں نے خود بال منڈوا کر ویڈیو بنائی ہو۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آیا واقعی گوجرانوالہ پولیس نے نوجوانوں کو گنجا کیا اور ویڈیو وائرل کی؟ بعدازاں سرکاری وکیل کو مکمل معلومات حاصل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آر پی او گوجرانوالہ سے23 جون تک رپورٹ طلب کر لی اور سماعت ملتوی کر دی۔

مزید خبریں