خیبرپختونخواحکومت نے ”خوشحال خیبرپختونخوا“بجٹ مالی سال2026-27 پیش کردیاآئندہ مالی سال کیلئے بجٹ کامجموعی حجم2170ارب مقرر،48 ارب خسارہ شامل

خیبرپختونخواحکومت نے ”خوشحال خیبرپختونخوا“بجٹ مالی سال2026-27 پیش کردیاآئندہ مالی سال کیلئے بجٹ کامجموعی حجم2170ارب مقرر،48 ارب خسارہ شامل

پشاور۔ 19 جون (اے پی پی):خیبرپختونخواحکومت نے ”خوشحال خیبرپختونخوا“بجٹ مالی سال2026-27 پیش کردیابجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کیلئے بجٹ کامجموعی حجم2170ارب روپے مقررکیاگیاہے جس میں ترقیاتی منصوبوں، سماجی بہبود، صحت، تعلیم اور امن و امان کے لیے خطیر رقوم مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔بجٹ دستاویزات کے مطابق سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 524 ارب روپے جبکہ جاری اخراجات کے لیے ایک ہزار 645 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بجٹ میں ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لیے 35 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ مجموعی بجٹ خسارہ 48 ارب روپے رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے،حکومت اس خسارے کواپنی بچت سے پوراکرے گی اوراسکے لئے کوئی قرض نہیں لے گی۔صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز بھی شامل کی ہے، اسی طرح کم از کم ماہانہ اجرت میں 5 ہزار روپے اضافہ کرتے ہوئے اسے 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔اسکے علاوہ ایڈہاک ریلیف2022اور2025کوبنیادی تنخواہ میں ضم کرنے سمیت کنوینس الاؤنس میں پچاس فیصد اضافے کی تجویز ہے،بجٹ میں امن و امان کے شعبے کے لیے 191 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ گڈ گورننس روڈ میپ کے لیے 200 ملین روپے رکھنے کی تجویز شامل ہے۔

سماجی بہبود کے شعبے میں احساس مستحق پروگرام کے لیے 15 ارب روپے اور صحت کارڈ پروگرام کے لیے 50 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس کے علاوہ ایم ٹی آئیز ہسپتالوں کے لیے 80 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔بجٹ میں پشاور بحالی پروگرام کے لیے 36 ارب روپے، پشاور بی آر ٹی کے لیے 7.5 ارب روپے اور خوشحال ہزارہ پروگرام کے لیے 4 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔اقلیتی برادری کی خود کفالت کے لیے 51 ملین روپے جبکہ احساس کسان پروگرام کے لیے 2 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، بیرون ملک روزگار کے خواہشمند افراد کو بلاسود قرضوں کی فراہمی کے لیے بھی 2 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔صوبائی حکومت نے الیکٹرک بائیکس اور رکشہ منصوبے کے لیے ڈھائی ارب روپے مختص کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔

صوبے میں انفراسٹرکچرکی ترقی کیلئے سڑکوں کے شعبے میں مجموعی طور پر 52.9ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،زرعی اصلاحات اور خواتین کی معاشی ترقی کیلئے سوملین روپے مختص کرنے کی تجویز ہے صاف پینے کے پانی کی فراہمی کے منصوبوں کیلئے ترقیاتی بجٹ میں 12.712اربر وپے مختص کئے گئے ہیں ترقیاتی بجٹ میں ماحولیات کے اثرات سے نمٹنے،گرین انرجی کے فروغ اور پائیدارترقی کیلئے 98.99ملین روپے کی تجویز بھی دی گئی ہے،بجٹ دستاویزات کے مطابق صحت کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 334 ارب روپے جبکہ تعلیم کے لیے 468 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

محکمہ بلدیات کے لیے 90 ارب روپے، داخلہ کے لیے 29 ارب روپے اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کے لیے 14 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔اسی طرح زراعت کے لیے 29 ارب روپے، توانائی کے شعبے کے لیے 42 ارب روپے جبکہ زکوٰۃ فنڈ کے لیے 28 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔

مزید خبریں