ڈیٹا پر مبنی مصنوعی ذہانت ترقی پذیر ممالک کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، ڈاکٹر زکریا نفیس

ڈیٹا پر مبنی مصنوعی ذہانت ترقی پذیر ممالک کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، ڈاکٹر زکریا نفیس

اسلام آباد۔19جون (اے پی پی):ترقی پذیر ممالک کو درپیش سماجی، معاشی اور سائنسی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ڈیٹا پر مبنی مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) ایک مؤثر اور انقلابی ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار کامسیٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سفیر ڈاکٹر زکریا نفیس نے نائیجیریا میں منعقدہ پانچویں افریقی سمپوزیم برائے بگ ڈیٹا، اینالیٹکس اور مشین انٹیلی جنس اور ٹی ڈبلیو اے ایس ینگ افیلی ایٹس نیٹ ورک (ٹی وائی اے این) کے 22ویں بین الاقوامی موضوعاتی ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ڈاکٹر زکریا نفیس نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈیٹا پر مبنی مصنوعی ذہانت عالمی جنوب (Global South) کے ممالک کو درپیش مختلف مسائل کے حل کے لیے نئی راہیں کھول رہی ہے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے انسانی وسائل کی ترقی، مہارتوں میں سرمایہ کاری، جامع طرز حکمرانی کے فریم ورک اور مضبوط بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کے فوائد کو وسیع پیمانے پر عام کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں اور علم کے تبادلے کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔کامسیٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے فیڈرل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اکورے (فیوٹا)، ٹی وائی اے این اور دیگر شراکت دار اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے افریقہ اور وسیع تر عالمی جنوب میں پائیدار ترقی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی حلوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس نوعیت کے بین الاقوامی فورمز تحقیق، اختراع اور سائنسی تعاون کو مزید مستحکم بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان علم و تجربات کے تبادلے کو فروغ دیں گے۔

مزید خبریں