نظریہ پاکستان اورالحاق پاکستان کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کی جاسکتی،یہ کشمیریوں کا متفقہ نظریہ ہے،فیصل ممتاز راٹھور
نظریہ پاکستان اورالحاق پاکستان کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کی جاسکتی،یہ کشمیریوں کا متفقہ نظریہ ہے،فیصل ممتاز راٹھور

مزید خبریں
اسلام آباد۔20جون (اے پی پی):آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ نظریہ پاکستان اورالحاق پاکستان کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کی جاسکتی،یہ کشمیریوں کا متفقہ نظریہ ہے،کالعدم ایکشن کمیٹی کے سٹیج سے مسلسل پاکستان اور پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کی جارہی ہے جو کسی قابل قبول نہیں ۔
یہاں جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم سے آل کشمیر نیوز پیپر سوسائٹی کے صدر سردار زاہد تبسم نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی ۔وفد میں چیف ایڈیٹر روزنامہ صدائے چنار چوہدری امجد ،چیف ایڈیٹر روزنامہ پارلیمنٹ ٹائمز چوہدری جاوید اقبال ،چیف ایڈیٹر کنٹری نیوز سردار حمید ،ایڈیٹر صدائے چنار اعجاز عباسی ،چیف ایڈیٹر ناگزیر سید دلاور بخاری ،چیف ایڈیٹر جنت نظیر اعجاز خان ،سینئر صحافی سید علی حسنین بخاری شامل تھے ۔
اس موقع پر پولیٹیکل اسسٹنٹ سید عزادار حسین کاظمی، پریس سیکرٹری آصف راٹھور،پی ایس صاحبزادہ یونس اور پریس اینڈ پبلیکیشن آفیسر آذان راٹھور بھی موجود تھے ۔ملاقات کے دوران آزادکشمیر کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر عوام کے جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ذمہ داری ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں نے کالعدم ایکشن کمیٹی سے متعدد بار رابطہ کیا انہیں آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ،شوکت نواز میر کے گھر جانے کی خواہش کا اظہار کیا مگر ان کی طرف سے جواب نفی میں آیا ایسی صورت میں ہمارے پاس کیا آپشن رہ جاتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ نظریہ پاکستان اور نظریہ الحاق پاکستان سے متعلق کسی قسم کی لچک نہیں دکھائی جا سکتی یہ کشمیری قوم کا متفقہ نظریہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران مسلسل غیر ذمہ دارانہ رویے اور زبان کا استعمال کر رہے ہیں جو کسی صورت قبول نہیں ہے،مگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اب بھی تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے سیاسی عمل کے ذریعے ریاست کو اس مقام تک پہنچایا ہے ایسا نہیں ہو سکتا کہ بزور طاقت کسی جتھے کو اپنے نظریات مسلط کرنے کی اجازت دی جائے ۔اس موقع پر وفد نے وزیراعظم کو بتایا کہ انہوں نے راولاکوٹ کا دورہ کیا تھا اور انہیں کالعدم ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران سے گفتگو کا موقع ملا انہوں نے وزیراعظم کو ان کے موقف سے آگاہ کیا ۔وزیراعظم نے اے کے این ایس کے موقف کو سنا اور کہا کہ قانون کے اندر رہتے ہوے جو گنجائش ہوئی وہ اس کے مطابق ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔








