قومی اسمبلی نے وزارت خزانہ کے 4 ہزار 282 ارب روپے سے زائد کے 12 مطالبات زر کی منظوری دیدی

قومی اسمبلی نے وزارت خزانہ کے 4 ہزار 282 ارب روپے سے زائد کے 12 مطالبات زر کی منظوری دیدی

اسلام آباد۔21جون (اے پی پی):قومی اسمبلی نے وزارت خزانہ کے 4 ہزار 282 ارب روپے سے زائد کے 12 مطالبات زر کی منظوری دیدی جبکہ اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی کٹوتی کی 100 تحریکیں مسترد کر دیں جبکہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ایف بی آر میں کی جانے والی اصلاحات سے آئندہ مالی سال کے ٹیکس اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔ اتوار کو قومی اسمبلی میں وزارت خزانہ کے مطالبات زر پر اپوزیشن کی کٹوتی کی تحریکوں پر بحث سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے قائمہ کمیٹیوں سے نکلنے، بجٹ تقریر کو سننے کی بجائے شور شرابہ کرنے سے انہوں نے وہ مواقع کھوئے کہ جہاں ان کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالوں کے جواب موجود تھے جبکہ بجٹ پر جاری بحث سمیٹتے ہوئے بھی اس کا احاطہ کیا۔

‘انہوں نے کہا کہ ہم نے ٹیکس کے بوجھ کی بجائے اس کو بڑھانے کیلئے ٹیکس اصلاحات کی طرف جا رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے میں بھی اصلاحات لائی جا رہی ہیں جس کا ذکر وزیر بجلی نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ڈیٹ سروسنگ، پنشن ریفارمز بھی کی جا رہی ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ آج سے دو اڑھائی سال پہلے جہاں پر ہم کھڑے تھے اس میں بہت بہتری آئی ہے، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کی بات کی گئی تو جب ہم نے 2022ء میں اپنی حکومت کا سفر شروع کیا تھا تو اس وقت سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کیلئے کوئی رقم نہیں رکھی گئی تھی اس وقت ہماری معیشت کا یہ حال تھا کہ سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے آخری کوارٹر کیلئے مختص رقم جاری کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ہماری شرح نمو 3.7 فیصد ہے جبکہ یہاں پر ڈیٹ سروسنگ کی بات کی گئی تو ہم نے اس کو جی ڈی پی کے 75 فیصد سے کم کر کے 70 فیصد اور اب 68 فیصد پر لائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے حوالے سے جو بات کی گئی وہ اہم تھی، ہم ایکو سسٹم کے تحت ان کیلئے مواقع فراہم کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ میں جس طرح پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے تحت ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے دوسرے صوبوں کو بھی اس کی تقلید کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال ٹیکس محصولات میں دوگنا اضافہ ہوا ہے، ہم نے عوام پر کوئی نئے ٹیکس نافذ نہیں کئے ہیں، انہوں نے کہا کہ جو اہداف آئندہ مالی سال کیلئے ٹیکس محصولات کے رکھے گئے ہیں اس کیلئے جو اصلاحات کی جا رہی ہیں ان اہداف کے حصول میں کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کے ثمرات کا پہلا قطرہ وزیراعظم کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر کے عوام تک پہنچایا گیا ہے۔

اللہ کرے کہ یہ سیز فائر حتمی ہو تاکہ مزید بہتری آ سکے۔ قبل ازیں ایوان میں وزارت خزانہ پر کٹوتی کی تحریکوں پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے زین قریشی نے ایف بی آر کے اہلکاروں کی وجہ سے پی او ایس سسٹم کی ناکامی پر سوال اٹھایا اور کہا کہ قرضے ایک ناسور بن چکے ہیں۔ شاہدہ اختر علی نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں افراط زر کی شرح سے اضافہ کیا جائے۔ عادل بازئی نے کہا کہ بلوچستان میں یونیورسٹی اساتذہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر سراپا احتجاج ہیں، ایران کے ساتھ سرحد کھولی جائے۔ سی پیک سے بلوچستان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔عظیم الدین زاہد نے کہا کہ آئی پی پیز قوم کا خون نچوڑ رہی ہیں۔ ساجد خان نے کہا کہ ضم اضلاع میں منصوبوں کی تکمیل یقینی بنائی جائے۔

عالیہ کامران نے کہا کہ قرضوں کا حجم اور ان کی ادائیگی پر بڑھتے سود سے مسائل بڑھ رہے ہیں، اس سے نجات حاصل کی جائے۔حمید حسین نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اخراجات کا نتیجہ بھی سامنے آنا چاہیے۔مبین عارف نے کہا کہ غریب آدمی پر ٹیکس کم کیاجائے، زمیندار کو سبسڈی کی جائے۔ شاندانہ گلزار نے کہا کہ سرکاری ملازمین وزیر اعظم کو بھی غلط معلومات دیتے ہیں۔

شہرام خان نے کہا کہ اس ملک کو ٹھیک کرنا ضروری ہے،ملک میں غربت اور بے روزگاری بلند ترین سطح پر ہے۔ شیر علی ارباب نے کہا کہ ٹیکس ریٹ بڑھانے کی بجائے ٹیکس نیٹ بڑھایا جائے۔ نعیمہ کشور نے کہا کہ ایران کے ساتھ گیس منصوبے کو حتمی شکل دی جائے، معیشت کو سود سے پاک کریں۔ عائشہ نذیر نے کہا کہ ہائی وے منصوبوں کے لئے فنڈز نہیں رکھے گئے،اس جانب توجہ دی جائے۔ انیقہ مہدی نے کہا کہ حافظ آباد اور منڈی بہائوالدین کے درمیان پل بنایا جائے۔ صبغت اللہ نے کہا کہ سود کا خاتمہ اصلاحات میں اولین ہونا چاہئے۔ شاہد خٹک نے کہا کہ معیشت کی بہتری کا دعوے ہر حکومت نے کیا تاہم معیشت نہیں سنبھلی۔

سیاسی استحکام سے معاشی استحکام آئے گا۔عمیر نیازی نے کہا کہ مسان انٹرچینج بنایا جائے، اس سے بھکر، خوشاب کو فائدہ ہوگا۔خرم منج نے کہا کہ وزارت خزانہ اس ملک کو روڈ میپ دینے میں ناکام رہی ہے۔ شبیر قریشی نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے لئے فنڈز جاری نہیں کئے جارہے۔ بعد ازاں سپیکر نے کٹوتی کی تحریکیں ایوان میں پیش کیں جن کو کثرت رائے سے مسترد کرتے ہوئے وزارت خزانہ کے مطالبات زر کی ایوان نے منظوری دیدی۔

مزید خبریں