ملتان میں آموں کے باغات کی تیزی سے کٹائی،سینکڑوں مالی بے روزگاراورماحولیاتی درجہ حرات میں اضافے کا خدشہ
ملتان میں آموں کے باغات کی تیزی سے کٹائی،سینکڑوں مالی بے روزگاراورماحولیاتی درجہ حرات میں اضافے کا خدشہ

مزید خبریں
ملتان۔ 21 جون (اے پی پی):آموں کے باغات کے لیے عالمی شہرت کے حامل شہرملتان اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں باغات کی تیزی سے کٹائی نہ صرف ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو بڑھا رہی ہے بلکہ اس شعبے سے وابستہ سینکڑوں مالیوں کے روزگار کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں، رہائشی کالونیوں اور کمرشل منصوبوں کے لیے زرعی اراضی کے استعمال کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث باغات کا رقبہ مسلسل کم ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں باغبانی کے ہنر سے وابستہ افراد بھی معاشی مشکلات کا شکار ہیں ۔
ملتان کے نواحی علاقے نواب پور روڈ کے رہائشی باغبان ساجد نے اتوار کے روز اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کئی برسوں سے آم کے باغات میں کام کرتا رہا ہے اور باغات کی دیکھ بھال، نئے پودے لگانے، بڈنگ اور دیگر باغبانی امور میں وسیع تجربہ رکھتا ہےتاہم حالیہ برسوں میں باغات کی جگہ ہاؤسنگ کالونیوں کی تعمیر نے اس کے روزگار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔اس نے بتایا کہ پہلے سال بھر باغات میں کام مل جاتا تھالیکن اب باغات کی تعداد کم ہونے کے باعث مزدوری کے مواقع محدود ہو گئے ہیں ۔
ساجد نے مزید بتایا کہ باغات کٹنے کے بعد اسے معاشی مجبوری کے تحت ایک سکول میں چپڑاسی کی ملازمت اختیار کرنا پڑی اور اس کے جیسے بہت سے مالی آج روزگار کے لیے پریشان ہیں۔دانش نامی ایک شخص نے بتایا کہ وہ بچپن سے آمُ کے باغوں میں مالی کے شعبے سے وابستہ ہے اور پنیری لگانے، بڈنگ کرنے کیساتھ ساتھ باغات کی دیکھ بھال میں بھی مہارت رکھتا ہے،اس کا روزگار آم کے باغات سے وابستہ ہے، باغات سے حاصل ہونے والی آمدنی سے وہ اپنے خاندان کی کفالت کے ساتھ تعلیمی اخراجات بھی کرتا ہے۔
دانش کے مطابق باغات کی مسلسل کٹائی کے باعث سینکڑوں مالی بے روزگاری یا جزوی بے روزگاری کا شکار ہو چکے ہیں۔ باغات کی کٹائی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دانش نے کہا کہ ہماری تمام مہارت باغبانی سے متعلق ہے لیکن جب باغات ہی ختم ہوتے جا رہے ہوں تو ہمارے لیے روزگار کے مواقع بھی ختم ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آم کے باغات کی کٹائی سے خطے میں سبزہ کم ہونے، درجہ حرارت میں اضافے اور ماحولیاتی توازن متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے، جس سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
متاثرہ مالیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آم کے باغات کو بے دریغ کٹائی سے بچانے اور زرعی اراضی کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ ایک جانب ماحول محفوظ رہے اور دوسری جانب باغبانی کے شعبے سے وابستہ سینکڑوں خاندانوں کا روزگار بھی برقرار رہ سکے۔








