بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں، خیبر پختونخوا میں دھان کی پیداوار خطرات سے دوچار
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں، خیبر پختونخوا میں دھان کی پیداوار خطرات سے دوچار

مزید خبریں
پشاور۔ 21 جون (اے پی پی):بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث ملک بھر کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی مختلف فصلوں کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ، دیگر فصلوں کی طرح خیبر پختونخوا میں دھان کی پیداوار بھی شدید متاثر ہو نے کا اندیشہ ہے جس پر کاشتکارو ذرعی ماہرین نے اپنے شدید تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر 1960 کے تاریخی معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا، انٹرنیشنل کورٹ آف آربیٹریشن (آئی سی اے) کے حالیہ تاریخی فیصلے نے اس بات کی توثیق کر دی ہے کہ بین الاقوامی وعدے بھارت پر لازم ہیں اور پانی کے تنازعات معاہدے میں طے شدہ قانونی میکانزم کے ذریعے حل کئے جانے چاہیئں ۔ ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے 66 سالہ کسان ظفر علی نے بھی ان ہی خدشات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ بھارتی خلاف ورزیوں کی وجہ سے چاول کی پیداوار اور اس سے وابستہ کسانوں کے معاش کو سنگین خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
ظفر علی صبح سویرے صوابی میں اپنے زرخیز کھیتوں میں محنت سے دن کا آغاز کرتے ہیں، وہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باوجود اپنے پانچ ایکڑ کے فارم پر دھان کی پنیری لگانے میں مزدوروں اور خاندان کے افراد کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ چاول پاکستان کی قیمتی فصلوں میں سے ایک ہے لیکن کسان تشویش کا اظہار کر رہے کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں طول پکڑتی ہیں تو یہ خیبر پختونخوا کی چاول کی معیشت کو خطرے میں ڈال دے گی۔
مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی باسمتی چاول کی بڑھتی ہوئی مانگ کے ساتھ خیبر پختونخوا کے کسانوں کو خدشہ ہے کہ گزشتہ سال اپریل سے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں دریاؤں کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کا خلل ان کے روزگار کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اور غذائی تحفظ پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دریائے سندھ کے کنارے کھڑے ظفر علی بہتے ہوئے پانی کو دیکھتے ہیں جس نے خطے میں ان جیسے کسانوں کی نسلوں کو پال رکھا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کا عطا کردہ یہ دریا ہماری لائف لائن ہے کیونکہ یہ صدیوں سے ہمارے خاندانوں کی کفالت کر رہا ہے۔ پنیری لگانے سے لے کر کٹائی تک چاول کی پیداوار پانی کی بھرپور فراہمی پر منحصر ہوتی ہے۔ اگر پانی کی دستیابی غیر منظم ہو گی تو پیداوار کم ہو جائے گی اور کسانوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑے گا۔ درجہ حرارت بڑھنے کے پیش نظر ظفر جو ہیٹ اسٹروک سے بچنے کےلیے سر پر گیلا رومال اوڑھے ہوئے ہیں اپنے کارکنوں کو بھی تلقین کرتے ہیں دوپہر کی کڑی دھوپ سے پہلے پنیری لگانے کاے کام مکمل کر لیں اور چاول کے لذیذ پکوانوں سے لطف اندوز ہوتے لوگوں کو یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ چاول کا ایک ایک دانہ کاشت کرنے میں کسان کس قدر محنت اور مشقت سے گزرتا ہے اور فصل کے لئے کتنا پانی درکار ہوتا ہے۔ پانی کی قلت نہ صرف ہزاروں کسانوں کو متاثر کرے گی بلکہ ان لاکھوں لوگوں کو بھی متاثر کرے گی جن کا روزگار پاکستان میں زراعت پر منحصر ہے۔
صوابی، نوشہرہ اور خیبر پختونخوا کے ملحقہ اضلاع دریائے سندھ کے نظام اور تربیلا ڈیم کے ذریعے آبپاشی کے پانی پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ چاول کے کسانوں کا کہنا ہے کہ پیداوار کو برقرار رکھنے اور برآمد کنندگان کی بڑھتی ہوئی برآمدی مانگ کو پورا کرنے کےلیے پانی کی قابل اعتماد فراہمی ناگزیر ہے۔ ظفر علی کہتے ہیں کہ پاکستانی باسمتی چاول کی خلیج، یورپ اور وسطی ایشیا میں بہت زیادہ مانگ ہے۔ ایک بار جب کٹائی شروع ہو جائے تو خریدارفوری آ جاتے ہیں کیونکہ وہ پاکستانی چاول کے معیار کو جانتے ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل زرعی تحقیقات خیبر پختونخوا ڈاکٹر عبدالرؤف کے مطابق چاول پاکستان میں اگائی جانے والی سب سے زیادہ پانی طلب فصلوں میں سے ایک ہے اور اپنے اعلیٰ معیار کی وجہ سے دنیا میں اسے ترجیح دی جا رہی ہے۔انہوں نے قومی خبر رساں ادارے "اے پی پی” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا چاول کی نشوونما کے ہر مرحلے میں، بیج کے اگنے اور غذائی اجزاء کے جذب ہونے سے لے کر پھول آنے اور دانے بننے تک پانی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، یہ بچوں اور دودھ پلانے والی ماؤں میں سٹنٹنگ کو روکنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
چاول کی نشوونما کے اہم مراحل کے دوران مناسب پانی کے بغیر، پیداوار اور دانے کے معیار دونوں پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔ ڈاکٹر رؤف نے کہا کہ تحقیقی مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ مٹی کے حالات، آب و ہوا اور کاشتکاری کے طریقوں کے لحاظ سے ایک کلو گرام چاول پیدا کرنے کے لیے 2,500 سے 5,000 لیٹر پانی درکار ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر رؤف نے کہا کہ چاول کی کاشت روایتی طور پر پانی سے بھرے کھیتوں پر انحصار کرتی ہے جو کہ بیشتر اناج کی فصلوں کے مقابلے میں کافی زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں۔ پانی کی دستیابی میں کوئی بھی طویل خلل براہ راست چاول کی پیداوار کو متاثر کر سکتا ہے۔زرعی محققین تیزی سے ایسی تکنیکوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں جو کسانوں کو پانی زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کرنے میں مدد دے سکیں۔ ڈاکٹر رؤف نے چاول کے کاشت کے متبادل طریقہ، چاول کی گہری کاشت کا نظام اور درست آبپاشی جیسے طریقوں پر روشنی ڈالی جنہوں نے پیداوار کو برقرار رکھتے ہوئے پانی کی کھپت کو کم کرنے میں امید افزا نتائج دکھائے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے تناظر میں خشک سالی کو برداشت کرنے والی چاول کی اقسام اور مٹی کی نمی کے انتظام کے بہتر طریقوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق دباؤ اور پانی کی قلت کے خلاف کسانوں کی مقابلے کی سکت کو مضبوط بنانا ہے۔ زرعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی بارشوں کے بدلتے ہوئے پیٹرن، درجہ حرارت اور بخارات بننے کے عمل میں اضافے کے ذریعے پاکستان کے آبی ذخائر پر پہلے ہی اضافی دباؤ ڈال رہی ہے۔ ڈاکٹر رؤف نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، گلوبل وارمنگ، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور گلیشیئرز کا پگھلنا سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے ساتھ مل کر آئندہ برسوں میں چاول کی پائیدار پیداوار کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ چاول پاکستان کی زرعی معیشت کا ایک اہم جز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ سالانہ پیداوار اوسطاً 9.8 سے 10 ملین میٹرک ٹن کے درمیان رہی ہے جس نے پاکستان کو دنیا کے چاول پیدا کرنے والے اور برآمد کرنے والے صف اول کے ممالک میں شامل کر دیا ہے۔ ملک کے چاول اگانے والے رقبے میں پنجاب کا حصہ تقریباً 61 فیصد ہے جو بنیادی طور پر پریمیم باسمتی اقسام پیدا کرتا ہے جبکہ سندھ زیادہ پیداوار دینے والی چاول کی کاشت کے ذریعے تقریباً 31 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی چاول کی پیداوار کا نصف سے زیادہ برآمد کرتا ہے جس سے ہر سال اربوں ڈالر کا زرِ مبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے سابق چیئرمین اور سینئر زرعی ماہرِ معاشیات ڈاکٹر محمد نعیم نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے دوران آبی ذخائر کا تحفظ نہ صرف کسانوں کے لیے بلکہ زراعت پر مبنی قومی معیشت کے لیے بھی ضروری ہے۔چاول کی برآمدات غیر ملکی زرِ مبادلہ کی کمائی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں اور پانی کی قلت کی وجہ سے پیداوار میں کوئی بھی نمایاں کمی کسانوں کی آمدنی، برآمدی محصولات اور پاکستان کے غذائی تحفظ پر سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
پشاور یونیورسٹی کے سابق چیئرمین شعبہ بین الاقوامی تعلقات ڈاکٹر اعجاز خان نے کہا کہ بھارت پاکستان میں بھوک اور فاقہ کشی کا راج پیدا کرنے کی گہری سازش کے تحت پانی کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے اے پی پی کو بتایا کہ بھارت یکطرفہ طور پر 1960 کے تاریخی معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا۔ انٹرنیشنل کورٹ آف آربیٹریشن (آئی سی اے) کے حالیہ تاریخی فیصلے نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ بین الاقوامی وعدے بھارت پر لازم ہیں اور پانی کے تنازعات کو معاہدے میں طے شدہ قانونی میکانزم کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنازعہ محض مغربی دریاؤں پر ڈیموں کی تعمیر کا نہیں ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بنانے کے بارے میں ہے کہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے میں طے شدہ طریقہ کار اور فریم ورک پر عمل کرنا چاہیے جو یکطرفہ کارروائیوں کو روکتے ہیں اور باہمی اعتماد کو برقرار رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان چار جنگیں لڑی جا چکی ہیں اور پانی پر ایک اور جنگ کے نتائج نہ صرف جنوبی ایشیا کو غیر مستحکم کریں گے بلکہ اس کے منفی اثرات اس سے بھی آگے تک جائیں گے۔ ڈاکٹر اعجاز خان نے کہا کہ ورلڈ بینک نے اس تاریخی معاہدے کے تحفظ کی ضمانت دی ہے اور اس پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فاشسٹ مودی حکومت کو فوری طور پر اپنا غیر قانونی فیصلہ واپس لینے اور معاہدے کو بحال کرنے پر مجبور کرے۔ ظفر علی جیسے کسانوں کےلیے یہ معاملہ انتہائی ذاتی ہے۔ ان کے رشتہ دار اور مزدور جو خاندانی فارم کو سنبھالنے میں مدد کرتے ہیں، نے کہا کہ پانی کی فراہمی پر غیر یقینی صورتحال ہزاروں زرعی فصلیں اگانے والوں، شہد کی مکھیاں پالنے والوں، مچھیروں اور مویشیوں کے مالکان کے درمیان ایک بار بار پیدا ہونے والی تشویش بن چکی ہے۔
انہوں نے پنیری لگاتے ہوئے کہا پودے لگانے کا ہر سیزن امید کے ساتھ شروع ہوتا ہے لیکن اب تشویش بھی ساتھ ہوتی ہے۔ کسان سخت محنت تو کر سکتے ہیں، لیکن دریا کے پانی کی دستیابی ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ ان کے ساتھ ایک مزدور ناصر خان بھی خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زراعت ہمارے خاندانوں کو پالتی ہے۔ انہوں نے کہا اگر پانی کی قلت کی وجہ سے فصلیں تباہ ہوئیں، تو اس سے صرف کسان ہی نہیں بلکہ پوری آبادیاں متاثر ہوں گی۔ دریا کے مسلسل بہاؤ کے ساتھ خیبر پختونخوا کے ہزاروں چاول اگانے والوں کی معاشرے میں عزت و وقار کے ساتھ جینے کی امیدیں بھی وابستہ ہیں۔







