سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ مخصوص کارکردگی (Specific Performance) کا حق ایک مساویانہ (Equitable) رعایت ہے جو صرف اسی فریق کو دی جا سکتی ہے جو معاہدے پر عمل درآمد کے لیے مسلسل آمادگی، خواہش اور مالی استطاعت کا مظاہرہ کرے۔
بقایا رقم ادا نہ کرنے والے خریدار کو جائیداد منتقلی کا حق نہیں مل سکتا، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔22جون (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ مخصوص کارکردگی (Specific Performance) کا حق ایک مساویانہ (Equitable) رعایت ہے جو صرف اسی فریق کو دی جا سکتی ہے جو معاہدے پر عمل درآمد کے لیے مسلسل آمادگی، خواہش اور مالی استطاعت کا مظاہرہ کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ جائیداد کی خریداری کے معاہدے میں مقررہ وقت پر بقایا رقم ادا نہ کرنے والا خریدار اس رعایت کا حقدار نہیں رہتا۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس شکیل احمد اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر سول اپیلیں نمٹاتے ہوئے قرار دیا کہ سیالکوٹ کی 5 کنال 4 مرلہ اراضی کی خریداری کے لیے 11 مارچ 2014 کو ہونے والے معاہدے کے تحت خریدار امجد جاوید نے 8 لاکھ روپے بطور بیعانہ ادا کیے تھے جبکہ 64 لاکھ 80 ہزار روپے 27 جولائی 2014 تک ادا کرنا تھے۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ معاہدے میں واضح شرط موجود تھی کہ مقررہ تاریخ تک بقایا رقم ادا نہ ہونے کی صورت میں بیعانہ ضبط کیا جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ایسی شرط وقت کو معاہدے کا بنیادی جزو بناتی ہے، لہٰذا خریدار کے لیے مقررہ مدت میں ادائیگی ضروری تھی۔فیصلے کے مطابق خریدار نے مخصوص کارکردگی کا دعویٰ دائر کیا تاہم ٹرائل کورٹ کی جانب سے دو مرتبہ مہلت دیے جانے کے باوجود بقایا رقم عدالت میں جمع نہیں کرائی۔ اس کے برعکس وہ بار بار مزید وقت مانگتا رہا، جس پر ٹرائل کورٹ نے دعویٰ خارج کر دیا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر خریدار واقعی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے تیار اور مخلص ہوتا تو عدالت کی ہدایات کے مطابق بقایا رقم جمع کرا دیتا۔
عدالت نے کہا کہ صرف دعویٰ میں آمادگی ظاہر کرنا کافی نہیں بلکہ عملی طور پر ادائیگی کی صلاحیت اور سنجیدگی ثابت کرنا بھی ضروری ہے۔عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ موجودہ دور میں جائیدادوں کی قیمتیں تیزی سے بڑھتی ہیں، اس لیے پرانے اصول کو اندھا دھند لاگو نہیں کیا جا سکتا کہ جائیداد کے معاملات میں وقت ہمیشہ غیر اہم ہوتا ہے۔ عدالت کے مطابق خریدار کسی فروخت کنندہ کو غیر معینہ مدت تک معاہدے میں جکڑ کر نہیں رکھ سکتا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ خریدار نے تقریباً ساڑھے تین سال بعد بقایا رقم عدالت میں جمع کرائی، جو اس کے حق میں کوئی فائدہ پیدا نہیں کرتی کیونکہ معاہدے اور عدالتی احکامات کے تحت ادائیگی کی مقررہ مدت بہت پہلے گزر چکی تھی۔عدالت نے قرار دیا کہ خریدار کا طرزِ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے درکار سنجیدگی اور آمادگی ثابت کرنے میں ناکام رہا، اس لیے وہ مخصوص کارکردگی جیسی مساویانہ رعایت کا مستحق نہیں۔ سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے خریدار کی اپیل مسترد کر دی۔








