وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے نجی ادارے کو خاتون ملازمہ کو زچگی کی چھٹی کے دوران ملازمت سے برطرف کرنے پر 12 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا

زچگی کی چھٹی کے دوران خاتون ملازمہ کو برطرف کرنے پر نجی ادارے کو 12 لاکھ روپے جرمانہ

اسلام آباد۔22جون (اے پی پی):وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے ایک نجی ادارے کو خاتون ملازمہ کو زچگی کی چھٹی کے دوران ملازمت سے برطرف کرنے پر 12 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

اس کے ساتھ ادارے کو جامع اصلاحی اقدامات نافذ کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔یہ فیصلہ وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کی جانب سے اس شکایت پر کیا گیا جس میں ایک اکائونٹنگ شعبے سے وابستہ ملازمہ نے موقف اختیار کیا کہ وہ منظور شدہ میٹرنٹی لیو پر تھی جب اسے فون کال کے ذریعے ملازمت ختم کیے جانے سے آگاہ کیا گیا۔ شکایت کے مطابق نہ تو کوئی باقاعدہ تحریری نوٹس جاری کیا گیا اور نہ ہی برطرفی کی وجوہات فراہم کی گئیں بلکہ صرف یہ بتایا گیا کہ اس کا نام ان ملازمین کی فہرست میں شامل ہے جن کی ملازمت بعد از میٹرنٹی لیو ختم کی جا رہی ہے۔کارروائی کے دوران گواہوں کے بیانات اور دستاویزی شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ محتسب نے قرار دیا کہ زچگی کی چھٹی کے دوران کسی خاتون ملازمہ کو ملازمت سے برخاست کرنا منفی اور امتیازی سلوک کے زمرے میں آتا ہے اور یہ عمل صنفی تفریق اور نفسیاتی ہراسیت کے مترادف ہے۔فیصلے میں واضح کیا گیا کہ حاملہ ہونا، ولادت، میٹرنٹی لیو اور بعد از زچگی صحت یابی خواتین کے خصوصی اور قانونی طور پر محفوظ مراحل ہیں اور ان سے متعلق کسی بھی قسم کا نقصان دہ یا امتیازی رویہ ناقابل قبول ہے۔انکوائری میں یہ بھی سامنے آیا کہ ادارے میں صنفی امتیاز صرف ملازمت ختم کرنے تک محدود نہیں تھا۔ میٹرنٹی لیو سے واپسی کے بعد ملازمہ کے سفری انتظامات اور صحتیابی سے متعلق سہولیات کو بھی مناسب طور پر فراہم نہیں کیا گیا جبکہ بچے کی دیکھ بھال سے متعلق دستاویزات میں تاخیر اور تنخواہ میں غیر ضروری کٹوتی کو بھی امتیازی رویے کا حصہ قرار دیا گیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ آجرین پر لازم ہے کہ وہ حاملہ خواتین اور نئی مائوں کو محفوظ، باعزت اور غیر امتیازی کام کا ماحول فراہم کریں۔ ادارے کو ہدایت دی گئی ہے کہ مستقبل میں میٹرنٹی لیو سے متعلق تمام رابطہ کاری صرف تحریری اور رسمی طریقہ کار کے ذریعے کی جائے۔مزید برآں ادارے کو تمام ملازمین کے لیے میٹرنٹی رائٹس، صنفی امتیاز اور ہراسیت سے متعلق لازمی آگاہی و تربیتی پروگرام منعقد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ شکایت کنندہ کے خلاف کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی سے بھی سختی سے روک دیا گیا ہے۔