جیسے ہی صبح کا سورج اپنی سنہری کرنیں پشاور پر بکھیرتا ہے، 35 سالہ ملیار خان اپنی آئس کریم گاڑی کا انجن اسٹارٹ کرتے ہیں اور بڑھتی ہوئی گرمی میں زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی امید کے ساتھ ایک اور مصروف دن کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں
پشاور میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے دوران آئس کریم چاچا بچوں کے لیے میٹھی ٹھنڈک کا ذریعہ بن گئے
پشاور۔ 22 جون (اے پی پی):جیسے ہی صبح کا سورج اپنی سنہری کرنیں پشاور پر بکھیرتا ہے، 35 سالہ ملیار خان اپنی آئس کریم گاڑی کا انجن اسٹارٹ کرتے ہیں اور بڑھتی ہوئی گرمی میں زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی امید کے ساتھ ایک اور مصروف دن کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔خیبر پختونخوا بھر میں درجہ حرارت میں مسلسل اضافے اور ٹھنڈی اشیاء کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث وہ امید رکھتے ہیں کہ صوبائی دارالحکومت کی مصروف مارکیٹوں اور رہائشی علاقوں میں گرمیوں کے اس موسم سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گے۔
بچوں میں محبت سے "آئس کریم چاچا” کے نام سے مشہور ملیار، سرخ قمیص میں ملبوس، حیات آباد کے پوش علاقے کی ایک جانی پہچانی شخصیت بن چکے ہیں۔ان کی خوبصورتی سے سجی ہوئی گاڑی کا مخصوص سائرن اکثر بچوں میں جوش و خروش پیدا کر دیتا ہے، جو صبح سے شام تک ان کے گزرنے پر اپنے گھروں کے دروازوں اور گیٹوں تک آ جاتے ہیں۔تاہم ان کی مسکراہٹ کے پیچھے قربانی، ثابت قدمی اور عزم کی ایک داستان چھپی ہوئی ہے۔ ملیار خان نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا”میں نے کم عمری میں والدین کو کھونے کے بعد یہ محنت طلب کام شروع کیا۔ ان کے علاج کے لیے بہت زیادہ قرض لیا گیا تھا اور مجھے محسوس ہوا کہ اسے واپس کرنا میری ذمہ داری ہے۔
"ان کے والد، جو لبلبے کے کینسر کے باعث انتقال کر گئے تھے، چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا ڈاکٹر بنے، مگر ایک سانحے نے ملیار کی زندگی کا رخ بدل دیا۔انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا”میرے والد چاہتے تھے کہ میں اپنی تعلیم مکمل کروں اور طب کے شعبے میں کیریئر بناؤں۔ ان کی اچانک وفات کے بعد مجھے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خاندان کی کفالت کے لیے اس مشکل کاروبار میں آنا پڑا۔”جو کام ابتدا میں مجبوری تھا، وہ آہستہ آہستہ روزگار اور مقصدِ حیات بن گیا۔ ملیار روزانہ پشاور کی گلیوں میں شدید گرمی برداشت کرتے ہوئے بچوں تک خوشی کے لمحات پہنچاتے ہیں۔انہوں نے کہاشدید گرمی کی وجہ سے بہت سے بچے گھروں میں رہتے ہیں۔ میں آئس کریم ان کے دروازے تک پہنچاتا ہوں تاکہ وہ گرمی میں باہر نکلے بغیر ٹھنڈے مزے سے لطف اندوز ہو سکیں۔
"ملیار کے مطابق دودھ سے بنی مختلف ذائقوں کی آئس کریمیں، خصوصاً آم اور پستے کے ذائقے والی، بچوں میں سب سے زیادہ مقبول ہیں۔









