سپریم کورٹ میں قتل کیس کی سماعت، مقدمہ تین رکنی بینچ کے سامنے مقرر کرنے کی ہدایت

سپریم کورٹ نے قتل کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران کیس کو تین رکنی بینچ کے سامنے مقرر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

اسلام آباد۔23جون (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قتل کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران کیس کو تین رکنی بینچ کے سامنے مقرر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے منگل کو مقدمے کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت وکیل ریحان شیخ نے استدعا کی کہ ان کا مقدمہ پیر کے روز مقرر کیا جائے اور اسے تین رکنی بینچ کے سامنے سماعت کے لیے لگایا جائے۔اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آج عدالت کا بینچ دو رکنی ہے جبکہ مقدمے کو تین رکنی بینچ کے سامنے مقرر کیا جائے گا۔سماعت کے دوران وکیل ریحان شیخ نے چیف جسٹس کے انتظامی اقدامات اور رجسٹرار آفس تک وکلا کی رسائی سے متعلق شکایات بھی عدالت کے سامنے رکھیں۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض معاملات ایسے ہوتے ہیں جو متعلقہ افسران سے ملاقات کے بغیر حل نہیں ہو سکتے، تاہم وکلا کو رجسٹرار آفس تک رسائی حاصل نہیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ آیا یہ صورتحال اچھی ہے یا بری؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ یہ بالکل غلط ہے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ رجسٹرار آفس اندر واقع ہے، ان کی آواز وہاں تک نہیں پہنچتی جبکہ باہر موجود عملہ اندر جانے کی اجازت نہیں دیتا۔

عدالت نے سوال کیا کہ اگر ایسا ہے تو وکلا کے نمائندے کس لیے موجود ہیں؟ جسٹس مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ نمائندوں کا کام ہی مسائل کی نشاندہی کرنا اور وکلا کی بہتری کے لیے کام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر نظام میں بہتری کی گنجائش موجود رہتی ہے۔وکیل ریحان شیخ نے مزید بتایا کہ انہیں تقریباً 150 نوٹس موصول ہوئے جن میں پیپر بکس تیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ قواعد کے مطابق سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات میں پیپر بکس تیار کرنا متعلقہ ادارے کی ذمہ داری ہے، نہ کہ وکیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جیلوں میں قید ملزمان کو بھی پیپر بکس بھجوانے کے نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔جسٹس جمال مندو خیل نے وکیل کو یقین دہانی کرائی کہ وہ بطور وکیل ان کی تجاویز متعلقہ حکام تک پہنچا دیں گے۔ بعد ازاں عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔