حکومتِ بلوچستان یورپی یونین اور یونیسف کے اشتراک سے جاری پانچ سالہ بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ پروگرام کی کامیاب تکمیل پرتقریب کا انعقاد
حکومتِ بلوچستان یورپی یونین اور یونیسف کے اشتراک سے جاری پانچ سالہ بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ پروگرام کی کامیاب تکمیل پرتقریب کا انعقاد

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 23 جون (اے پی پی):حکومتِ بلوچستان یورپی یونین اور یونیسف کے اشتراک سے جاری پانچ سالہ بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ پروگرام (BES-II) کی کامیاب تکمیل کے موقع پر صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کی مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی تھیں۔ بی ایس پی پروجیکٹ کی اختتامی تقریب میں سیکرٹری ایجوکیشن اسکولز لعل جان جعفر، اعلیٰ سرکاری حکام، یورپی یونین، یونیسف، محکمہ تعلیم بلوچستان اور ترقیاتی شراکت دار اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری سکولز بلوچستان لعل جان جعفر نے کہا کہ کہ یورپی یونین کی 17.4 ملین یورو کی مالی معاونت سے 2021 سے 2026 تک جاری رہنے والے پروگرام کے تحت بلوچستان بھر میں 7 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں کو معیاری تعلیم، بہتر تدریسی ماحول اور سیکھنے کے مواقع فراہم کیے گئے۔ اس دوران تقریباً 3 لاکھ 35 ہزار طالبات نے بھی پروگرام سے استفادہ کیا، جس سے صوبے میں لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ اور صنفی مساوات کے اہداف کو تقویت ملی۔مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم بلوچستان کی پائیدار ترقی، سماجی استحکام اور خوشحالی کی بنیاد ہے۔
انہوں نے یورپی یونین اور یونیسف کی مسلسل معاونت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام نے نہ صرف بچوں کو تعلیم تک رسائی فراہم کی بلکہ تعلیمی نظام میں پائیدار اصلاحات کی راہ بھی ہموار کی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان صوبے کے ہر بچے، بالخصوص بچیوں، کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی ۔انہوں نےکہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق یورپی یونین اور یونیسف کے ساتھ ایک دہائی پر محیط شراکت داری نے بلوچستان کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے اور لاکھوں بچوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے شراکت دار اداروں کے تعاون کو سراہتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا کہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہر بچے تک معیاری تعلیم کی فراہمی کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔
پروگرام کے تحت تعلیمی منصوبہ بندی، احتساب اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اصلاحات متعارف کرائی گئیں۔ ان میں بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل اسکول مردم شماری، اسکولوں کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ سسٹم اور ورچوئل اکیڈمی کا قیام شامل ہے، جس کے ذریعے 10 ہزار 600 سے زائد اساتذہ کو تربیت فراہم کی گئی۔ اس کے علاوہ 4 ہزار سے زائد اساتذہ نے پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع حاصل کیے جبکہ 3 ہزار پیرنٹ ٹیچر اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں کو فعال بنایا گیا، جن میں 16 ہزار سے زائد کمیونٹی اراکین شریک ہوئے۔پروگرام کے نتیجے میں تعلیم تک رسائی میں نمایاں بہتری آئی۔
20 ہزار سے زائد پرائمری سطح کے اسکول سے باہر بچوں اور 2 ہزار 200 سے زائد مڈل سطح کے بچوں کو ایکسیلریٹڈ لرننگ پروگرامز کے ذریعے دوبارہ تعلیمی دھارے میں شامل کیا گیا، جن میں اکثریت لڑکیوں کی تھی۔ مزید برآں 1,230 اسکولوں میں تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے کے اقدامات سے 1 لاکھ 50 ہزار سے زائد بچوں کو فائدہ پہنچا جبکہ 6 ہزار 100 سے زائد نوجوانوں کو مستقبل کی تعلیم اور روزگار کے لیے ضروری مہارتیں فراہم کی گئیں۔پروگرام نے ہنگامی حالات اور قدرتی آفات کے دوران بھی بچوں کی تعلیم کے تسلسل کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اس دوران 6 ہزار 600 سے زائد سیلاب متاثرہ بچوں کو تعلیمی معاونت فراہم کی گئی جبکہ 72 ہزار سے زائد نوعمر لڑکیوں اور 26 ہزار بچوں کو صحت، صفائی ستھرائی اور اسکریننگ کی سہولیات مہیا کی گئیں، جس سے ان کی فلاح و بہبود اور تعلیمی کارکردگی میں بہتری آئی۔یورپی یونین کے قائم مقام سربراہ برائے تعاون پاکستان ڈاکٹر سباستیان لوریوں نے کہا کہ تعلیم اور مہارتوں میں سرمایہ کاری دراصل بلوچستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یورپی یونین بلوچستان میں تعلیم کے فروغ اور تعلیمی نظام کی مضبوطی کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گی۔پاکستان میں یونیسف کی نمائندہ پرنیل آئرن سائیڈ نے کہا کہ حکومت بلوچستان، یورپی یونین اور یونیسف کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں لاکھوں بچوں کو تعلیم اور مہارتوں کے حصول کا دوسرا موقع ملا۔
انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام اس بات کی بہترین مثال ہے کہ مؤثر حکومتی قیادت، کمیونٹی کی شمولیت اور بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے بچوں کے روشن مستقبل کی مضبوط بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بلوچستان میں ہر بچے کے لیے معیاری، مساوی اور پائیدار تعلیمی مواقع کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت بلوچستان، یورپی یونین اور یونیسف کے درمیان تعاون آئندہ بھی جاری اور مزید مستحکم بنایا جائے گا۔








