راولپنڈی ، وزیراعلیٰ پنجاب نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں نمایاں کمی کی ہدایت کر دی
راولپنڈی ، وزیراعلیٰ پنجاب نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں نمایاں کمی کی ہدایت کر دی

مزید خبریں
راولپنڈی۔ 23 جون (اے پی پی):پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے باعث وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں نمایاں کمی کی ہدایت کر دی جس کے بعد راولپنڈی میں مختلف اقسام کی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 12 سے 18 فیصد تک کمی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔پنجاب حکومت کی ہدایات پر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن اور سیکریٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) راولپنڈی نے نئے کرائے نامے جاری کر دیے ہیں جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔ سیکریٹری آر ٹی اے کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا براہ راست فائدہ عوام تک پہنچانے کے لیے تحصیل سطح پر کرایوں کا ازسرنو تعین کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق اے سی ڈیزل ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 12 فیصد، نان اے سی ڈیزل ٹرانسپورٹ اور پٹرول سے چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 15 فیصد جبکہ مال بردار گاڑیوں (گڈز ٹرانسپورٹ) کے کرایوں میں 18 فیصد کمی کی گئی ہے۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق کرایوں میں کمی کا مکمل فائدہ عام مسافروں تک پہنچانے کے لیے سخت مانیٹرنگ کا نظام نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ اور آر ٹی اے کی خصوصی ٹیمیں بس اڈوں، ویگن اسٹینڈز اور مختلف روٹس پر مسلسل چیکنگ کر رہی ہیں تاکہ نئے کرایوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
انتظامیہ کے مطابق مقررہ کرایوں سے زائد وصولی اور اوور چارجنگ کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔ حالیہ مہم کے دوران 464 گاڑیوں کی چیکنگ کی گئی، 86 گاڑیوں کے چالان کیے گئے جبکہ خلاف ورزیوں پر مجموعی طور پر 2 لاکھ 80 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ضلعی انتظامیہ راولپنڈی نے خبردار کیا ہے کہ نئے کرایوں کی خلاف ورزی کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ جرمانوں کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کو بند بھی کیا جا سکتا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کرایوں میں کمی کے حکومتی فیصلے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر چیکنگ کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کیا جا سکے۔








