پی ایچ اے اور کریسنٹ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے درمیان فاطمہ جناح پارک شادمان کی تزئین و آرائش کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

’’ایڈاپٹ اے پارک‘‘ مہم، فاطمہ جناح پارک شادمان کی بہتری کیلئے پی ایچ اے اور کریسنٹ ایجوکیشنل ٹرسٹ میں معاہدہ

لاہور۔23جون (اے پی پی):وزیراعلی مریم نواز کے ’’خوبصورت لاہور‘‘ویژن کے تحت ہارٹی کلچر ایجنسی لاہور کی ’’ایڈاپٹ اے پارک‘‘ مہم کے تحت پی ایچ اے اور کریسنٹ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے درمیان فاطمہ جناح پارک، شادمان کی دیکھ بھال، تزئین و آرائش اور بہتری کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔

ایم او یو کی تقریب میں چیئرمین پی ایچ اے غزالی سلیم بٹ، منیجنگ ڈائریکٹر پی ایچ اے راجہ منصور احمد، ایڈیشنل منیجنگ ڈائریکٹر نبیل ریاض سندھو، ڈائریکٹر فنانس احمد سعد منج سمیت پی ایچ اے کے دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔پی ایچ اے کی جانب سے ڈائریکٹر کوآرڈینیشن فرح دیبا جبکہ کریسنٹ ایجوکیشنل ٹرسٹ کی جانب سے جنرل منیجر ایڈمنسٹریشن کرنل (ر) محمد علی نے ایم او یو پر دستخط کیے۔ تقریب میں کریسنٹ ایجوکیشنل ٹرسٹ کی سی ایف او سمیاب شبیر، عنبرین یونس اور دیگر نمائندگان بھی موجود تھے۔معاہدے کے تحت کریسنٹ ایجوکیشنل ٹرسٹ فاطمہ جناح پارک شادمان کی دیکھ بھال، تزئین و آرائش، شجرکاری، صفائی اور شہریوں کو بہتر تفریحی ماحول کی فراہمی کے لیے پی ایچ اے کے ساتھ مل کر اقدامات کرے گا۔ ایم ڈی ہارٹیکلچر ایجنسی لاہور راجہ منصور احمد نے بتایا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے فاطمہ جناح پارک شادمان کو اڈاپٹ کرنے کے لیے کریسنٹ ایجوکیشنل سوسائٹی کی درخواست پہلے ہی منظور کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزید پارکس کو اڈاپٹ کرنے کے لیے متعدد درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن پر قانون اور پالیسی کے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا، پارکوں کو اڈاپٹ کرنے کے اس منصوبہ کا مقصد حکومت اور شہریوں میں بیوٹیفیکشن کے عمل کو فروغ دینا ہے۔ چیئرمین پی ایچ اے غزالی سلیم بٹ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی کی قیادت میں حکومت پنجاب لاہور میں گرین کور میں اضافے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، حکومتی اقدامات سے گزشتہ سیزن میں سموگ کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی۔ انہوں نے کہا کہ ہارٹیکلچر ایجنسی لاہور بڑے پارکوں کیساتھ گنجان علاقوں میں چھوٹے پارکوں پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کریسنٹ ایجوکیشنل سوسائٹی فاطمہ جناح پارک شادمان میں معیاری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے گی جبکہ اس مقصد کے لیے ہارٹیکلچر ایجنسی لاہور انکے بھرپور تعاون کرتی رہے گی۔

مزید خبریں