نیدرلینڈز میں پاکستانی سفارتخانہ کا ٹی ڈی اے پی کے تعاون سے ’’پاکستان کے کھیتوں سے یورپ کے دسترخوان تک ‘‘کے عنوان سے تقریب کا انعقاد

نیدرلینڈز میں پاکستانی سفارتخانہ اور ٹی ڈی اے پی کے اشتراک سے ’’پاکستان کے کھیتوں سے یورپ کے دسترخوان تک‘‘ تقریب کا انعقاد

دی ہیگ ۔23جون (اے پی پی):نیدرلینڈز میں پاکستان کے سفارتخانہ نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی ) کے تعاون سے پاکستان کے کھیتوں سے یورپ کے دسترخوان تک کے عنوان سے ایک تقریب میں ’’پاکستان رائس فیسٹیول 2026‘‘ کا شاندار انعقاد کیا جس میں یورپ بھر سے 100 سے زائد ممتاز درآمد کنندگان، ریٹیلرز، فوڈ انڈسٹری کے ماہرین، معروف شیفس، سفارتی نمائندگان، میڈیا شخصیات اور کاروباری رہنماؤں نے شرکت کی۔منگل کو سفارتخانہ سے جاری بیان کے مطابق فیسٹیول میں شرکاء کو اعلیٰ معیار کے پاکستانی باسمتی چاول کی مختلف اقسام چکھنے کا موقع فراہم کیا گیا جن میں معروف سپر کرنل باسمتی بھی شامل تھا۔پاکستان رائس فیسٹیول 2026 تقریب کے دوران پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان زرعی و غذائی تعاون کے امکانات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ کراچی میں 23 سے 26 نومبر 2026 تک منعقد ہونے والی بین الاقوامی غذائی و زرعی نمائش ’’فوڈ ایگزی بیشن 2026‘‘ کو پاکستان کے آئندہ بڑے تجارتی سنگِ میل کے طور پر پیش کیا گیا۔تقریب کا مقصد پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ باسمتی چاول کو یورپی منڈی میں مزید متعارف کرانا، تجارتی روابط کو فروغ دینا اور زرعی و غذائی شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا تھا۔”پاکستان کے کھیتوں سے یورپ کی دسترخوان تک” کے عنوان سے منعقدہ اس خصوصی تقریب میں پاکستان کے باسمتی چاول کی تاریخی وراثت، عالمی منڈی میں اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور پاکستان کی زرعی برآمدی صلاحیت کو نمایاں کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نیدرلینڈز میں پاکستان کے سفیر سید حیدر شاہ نے کہا کہ پاکستان زرعی و غذائی مصنوعات کے شعبے میں معیار، پائیداری، ٹریس ایبلٹی اور بین الاقوامی فوڈ سیفٹی معیارات پر مکمل عملدرآمد کے لئے پرعزم ہے۔ پاکستان کے سفیر نے کہا کہ پاکستانی باسمتی محض ایک زرعی پیداوار نہیں بلکہ جغرافیائی شناخت (GI) سے محفوظ ایک منفرد برانڈ ہے جو صدیوں پر محیط زرعی ورثے اور بین الاقوامی معیار کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی صارفین کی جانب سے اصلیت، معیار اور پائیداری پر بڑھتی ہوئی توجہ پاکستان کے لئے ایک اہم موقع ہے اور پاکستان اس طلب کو پورا کرنے کے لئے ایک قابل اعتماد تجارتی شراکت دار بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے ڈچ اور یورپی کاروباری حلقوں کو کراچی میں منعقد ہونے والی فوڈ ایگزیبیشن 2026 میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ یہ نمائش پاکستانی برآمد کنندگان، پروڈیوسرز، پراسیسرز اور بین الاقوامی خریداروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا بہترین موقع فراہم کرے گی۔تقریب میں شریک مہمانوں کو پاکستانی باسمتی چاول سے تیار کردہ روایتی اور جدید پکوان بھی پیش کئے گئے۔ شرکاء کو باسمتی چاول کی جغرافیائی شناخت (GI)، معیار کی یقین دہانی، ٹریس ایبلٹی نظام اور یورپی مارکیٹ کے تقاضوں سے مطابقت کے حوالے سے بھی تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔پاکستانی برآمدی صلاحیت کو مزید اجاگر کرنے کے لئے تقریب میں ’’اسکور فار پاکستان‘‘ کے عنوان سے ایک خصوصی سرگرمی بھی منعقد کی گئی جس کے ذریعے شرکاء کو پاکستان کی عالمی معیار کے فٹ بالز کی تیاری میں کامیابیوں سے آگاہ کیا گیا۔ اس سرگرمی نے زرعی شعبے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی صنعتی اور برآمدی صلاحیت کو بھی نمایاں کیا۔ نیدرلینڈز یورپی یونین میں پاکستان کی اہم ترین برآمدی منڈیوں میں شامل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 1.94 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ روٹرڈیم پورٹ اور ایمسٹرڈیم اسخپول ایئرپورٹ پاکستانی مصنوعات کی یورپی منڈیوں تک رسائی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ دی ہیگ میں پاکستان کا سفارتخانہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ اس وقت 50 سے زائد ڈچ کمپنیاں پاکستان میں مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہیں جن میں رائل فریزلینڈ کیمپینا، ویون (JAZZ)، ووپاک اور فریژین ایگ جیسی نمایاں کمپنیاں شامل ہیں۔پاکستان رائس فیسٹیول 2026 سفارتخانے کی اقتصادی سفارت کاری کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستانی برآمدات کو فروغ دینا، بین الاقوامی تجارتی شراکت داریوں کو مضبوط بنانا اور پاکستان، نیدرلینڈز اور یورپی منڈیوں کے درمیان نئے کاروباری مواقع پیدا کرنا ہے۔

مزید خبریں