قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ اچھے کاموں میں حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں، آزاد عدلیہ اور آزاد پریس ملک کے لیے ضرور ی ہیں۔
اچھے کاموں میں حکومت کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہیں، قائدحزب اختلاف کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔24جون (اے پی پی):قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ اچھے کاموں میں حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں، آزاد عدلیہ اور آزاد پریس ملک کے لیے ضرور ی ہیں۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر انہوں نے کہاکہ کل واک آئوٹ کے دوران جب وہ ایوان سے باہر جا رہے تھے تو سپیکر نے اپنے اظہار خیال کے دوران چمن میں میری تقریر کا حوالہ دیا جو میں نے پشتو زبان میں کی تھی اور اس میں کہا تھا کہ جو کچھ کرنا ہے ہم نے خودکرنا ہے، میں نے کہا تھا کہ ہر ایک خاندان کا ایک فرد مجھے دیا جائے تاکہ ہم اپنے فیصلے خود کر سکیں ۔ انہوں نے کہاکہ قرآن کریم کی آیت ہے کہ نیکی کے کاموں میں تعاون اور گناہ اور دشمنی میں تعاون نہ کرو، حکومت جو بھی خیرکاکام کرے گی ،ہم معاونت کریں گے لیکن اگر لوگوں کے خلاف ظلم ہوگا تو ہم اس کی مخالفت کریں گے۔
محمود خان اچکزئی نے کہاکہ عدلیہ سے محبت کاتقاضا ہے کہ ایوان میں قرارداد لائی جائے اور مارشل لائوں میں جن ججوں نے جمہوریت کیلئے استعفے دیئےانہیں قومی ہیروز قرار دیا جائے، یہ وہ ججز تھے جنہوں نے اپنے بچوں کے پیٹ کاٹ کر ملک اور جمہوریت کیلئے قربانیاں دیں۔ اسی طرح جن بچوں نے ایم آرڈی میں گولیاں کھائیں اورشہید ہوئے ،اس ایوان میں ایک قرار داد لا کر انہیں قومی ہیروزقراردیا جائے۔انہوں نے کہاکہ افغانستان، بھارت اورچین ہمارے ہمسایہ ممالک ہیں، ہم ہمسایہ تبدیل نہیں کر سکتے، افغانستان ایک آزاد ملک ہے اورہم نے کسی عسکری لشکرکی بات نہیں کی ہے ۔ محمودخان اچکزئی نے کہاکہ انہوں نے آئین میں 8 ویں ترمیم کے تحت 58ٹوبی کو چیلنج کیا تھا، ہمارا موقف ہے کہ آزادپریس اورآزادعدلیہ پاکستان کیلئے ضروری ہے، انہوں نے مزیدکہاکہ جوبچے اوربزرگ جیلوں میں ہے انہیں پارلیمانی قرارداد ،یا ایگزیکٹوآرڈر کے ذریعہ رہا کیاجا ئے۔








