خرچہ نان و نفقہ میں سالانہ 10 فیصد اضافے کی شق کا اطلاق ماضی کے بقایاجات پرلاگو نہیں ہوسکتا، لاہورہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے نان و نفقہ کے خرچہ میں سالانہ اضافے سے متعلق دائر درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ خرچہ نان و نفقہ میں سالانہ 10 فیصد اضافے کی شق کا اطلاق ماضی کے بقایاجات پرلاگو نہیں ہوسکتا۔

لاہور۔24جون (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے نان و نفقہ کے خرچہ میں سالانہ اضافے سے متعلق دائر درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ خرچہ نان و نفقہ میں سالانہ 10 فیصد اضافے کی شق کا اطلاق ماضی کے بقایاجات پرلاگو نہیں ہوسکتا۔ لاہورہائیکورٹ کے جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے رانا تسنیم اعجاز کی درخواست پر 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ عدالت کے روبرو درخواست گزار رانا تسنیم اعجاز کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ ماتحت نے ماضی کے 6 سال پرانے خرچے پر بھی10 فیصد سالانہ اضافہ لگا دیا۔ غلط حساب کتاب سے تقریبا 4 لاکھ روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا۔ عدالت ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے ۔

دوران سماعت سابق بیوی کی جانب سے بتایاگیا کہ قانون کے تحت خرچے کی رقم میں سالانہ اضافہ ماضی کے بقایاجات پر بھی ملنا چاہیے۔ عدالت درخواست گزار کی اپیل خارج کرے ۔جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے دلائل مکمل ہونے پر تحریری فیصلے میں لکھا کہ سالانہ اضافے کا قانون مستقبل کی مہنگائی اور اخراجات کے پیشِ نظر ہے۔ سالانہ اضافے کوماضی کے طے شدہ واجبات پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ ماتحت عدالتوں نے 10 فیصد سالانہ اضافہ کوماضی سے شامل کر کے دائرہ اختیار کی سنگین غلطی کی۔ لاہورہائیکورٹ کے جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے نیا قانونی نکتہ طے کردیا ،لاہور ہائیکورٹ نے ماتحت عدالتوں کے فیصلے غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کر دیے۔عدالتِ عالیہ نے عمل درآمدکورٹ کو نان و نفقہ کی واجب الادا رقم کا دوبارہ حساب کرنے کا حکم دیتے ہوئے اپیل نمٹادی ۔