ریگولر اور ٹیکنیکل ضمنی گرانٹس برائے مالی سال 25-2024 اور 26-2025 اور غیر تصویبی اخراجات کی تفصیل قومی اسمبلی میں پیش

ریگولر اور ٹیکنیکل ضمنی گرانٹس برائے مالی سال 2024-2025ء اور 2025-2026 اور انہی دو مالی سال کی ریگولر اور ٹیکنیکل ضمنی گرانٹس میں ظاہر کردہ غیر تصویبی اخراجات کی تفصیل قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئی۔

اسلام آباد۔24جون (اے پی پی):ریگولر اور ٹیکنیکل ضمنی گرانٹس برائے مالی سال 2024-2025ء اور 2025-2026 اور انہی دو مالی سال کی ریگولر اور ٹیکنیکل ضمنی گرانٹس میں ظاہر کردہ غیر تصویبی اخراجات کی تفصیل قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئی۔ بدھ کووفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں عام بحث کیلئے یہ ریگولر اور ٹیکنیکل ضمنی گرانٹس پیش کیں جبکہ انہوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل 82 کی شق (I) کے تحت مالی سال 2024-2025 اور 2025-2026ء کی بابت ریگولر اور ٹیکنیکل ضمنی گرانٹس میں ظاہر کردہ غیر تصویبی اخراجات کو بحث کیلئے پیش کیا۔

جس کے مطابق 2024-2025 کیلئے صدر کا عملہ خانہ داری اور الائونسز (پرسنل) کیلئے 20 کروڑ 80 لاکھ، قلیل المیعاد بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی مد میں 40 ارب 34 کروڑ 96 لاکھ، آڈٹ 6 کروڑ 30 لاکھ، ملکی قرضہ جات کی ادائیگی کیلئے 2603 ارب 86 کروڑ 47 لاکھ روپے کی رقم شامل ہے جو مجموعی طور پر 2024-2025 کے سال کیلئے کل 2644 ارب 58 کروڑ 53 لاکھ سے زائد بنتی ہے

اسی طرح 2025-2026ء کیلئے ملکی قرضہ جات کی ادائیگی کی مد میں 12642 ارب 82 کروڑ 57 لاکھ روپے سے زائد، الیکشن کیلئے 45 کروڑ 59 لاکھ 84 ہزار اور وفاقی آئینی عدالت پاکستان کیلئے 2 ارب 25 کروڑ روپے کے مطالبات زر شامل ہیں جو کہ مجموعی طور پر 12645 ارب 53 کروڑ 17 لاکھ 70 ہزار روپے بنتے ہیں۔