جیو پولیٹیکل حالات میں پاکستان کیلئے موجود مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے اتفاقِ رائے ضروری ہے، خواہش ہے وزیراعظم کامیاب ہوں، بلاول بھٹوزرداری کاقومی اسمبلی میں اظہارخیال

جیو پولیٹیکل حالات میں پاکستان کیلئے موجود مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے اتفاقِ رائے ضروری ہے، خواہش ہے وزیراعظم کامیاب ہوں، بلاول بھٹوزرداری کاقومی اسمبلی میں اظہارخیال

اسلام آباد۔24جون (اے پی پی):پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں متحد ہو جائیں اور یہ طے کریں کہ ہم تمام مسائل کا مل کر مقابلہ کریں گے تو موجودہ جیو پولیٹیکل حالات میں پاکستان کیلئے موجود مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، جیو پولیٹیکل حالات میں پاکستان کیلئے موجود مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے اتفاقِ رائے ضروری ہے، خواہش ہے کہ وزیراعظم کامیاب ہوں کیونکہ اگر وزیراعظم کامیاب ہوں گے تو پاکستان کامیاب ہوگا۔ بدھ کوقومی اسمبلی کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پرانہوں نے کہاکہ سب سے پہلے وہ وزیرِ خزانہ سے معذرت خواہ ہیں کیونکہ ہمارا ارادہ تھا کہ بجٹ کا عمل مکمل کیا جائے، میں نے بہت کوشش کی کہ تمام تقاریر مکمل ہوں اور ہم اس مرحلے تک پہنچ جائیں، لیکن اتنے موضوعات کھول دیئے گئے کہ مجھے بھی اپنا موقف پیش کرنا پڑا۔بلاول بھٹوزرداری نے کہاکہ میں دو مرتبہ خود وزیراعظم کو ووٹ دے چکا ہوں وہ جس محنت، کام کی اخلاقیات، نیت اور انداز کے ساتھ اتحادیوں اور اپوزیشن سے رابطہ رکھتے ہیں، اس سے واضح ہے کہ وہ مثبت انداز میں ملک کو مشکل حالات سے نکالنا چاہتے ہیں۔

اگر قوم اور تمام سیاسی جماعتیں متحد ہو جائیں اور یہ طے کرلیں کہ ہم تمام مسائل کا مل کر مقابلہ کریں گے، تو موجودہ جیوپولیٹیکل حالات میں پاکستان کے لیے موجود مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے اتفاقِ رائے ضروری ہے تاہم انہوں نے بعض وزرا کے بیانات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ آخر کیوں وہ ایسی باتیں کرتے ہیں یا ایسے مشورے دیتے ہیں جن سے اس عمل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے؟۔ انہوں نے کہاکہ وہ رانا ثنا اللہ کی عزت کرتے ہیں، نواز شریف کا کشمیر کے ساتھ جو تعلق ہے، اس سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہاکہ آج اگر مولانا فضل الرحمان نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، تو حکومت کو بھی ایسی پوزیشن اختیار کرنی چاہیے جس سے سیاسی راستہ نکل سکے۔ مولانا فضل الرحمان کو یہ موقع دینا چاہیے کہ وہ متعلقہ فریقوں سے بات چیت کر کے اس مسئلے کا ایسا حل نکالیں کہ لوگوں کو بار بار احتجاج نہ کرنا پڑے اور کشمیر کاز بھی محفوظ رہے۔بلاول بھٹوزرداری نے کہاکہ تمام سیاسی مسائل کا سیاسی حل نکالا جا سکتا ہے، اور میری سمجھ کے مطابق وزیراعظم کی بھی یہی خواہش ہے۔

انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے آئین کی بنیاد رکھی اور اٹھارویں آئینی ترمیم بھی منظور کرائی۔ کراچی کے ہمارے معزز دوستوں کے ساتھ پیپلز پارٹی کا کوئی مسئلہ نہیں لیکن بعض دوست ان کے ساتھ سیاست کر رہے ہیں۔مزید مطالبات اور نئے ایشوز چھیڑنے کی بجائے بہتر یہ ہے کہ اگر اختلاف ہے تو یہ دوست حکومت سے علیحدہ ہو جائیں۔چئیرمین پی پی پی نے کہاکہ جہاں تک بلدیاتی نظام کا تعلق ہے، جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے وہاں بلدیاتی نظام موجود ہے، کراچی میں جو بلدیاتی نظام موجودہے ۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔ ہم گلگت بلتستان میں بھی نوے دن کے اندر بلدیاتی انتخابات کرائیں گے ،میری خواہش ہے کہ وزیراعظم کامیاب ہوں، کیونکہ اگر وزیراعظم کامیاب ہوں گے تو پاکستان کامیاب ہوگا۔