قومی اسمبلی اجلاس، وفاقی مجموعی فنڈ سے غیر تصویبی اخراجات و اخراجات برائے سال 2024-2025 اور 2025-2026 کے ضمن میں ریگولر اور ٹیکنیکل ضمنی گرانٹس منظور

قومی اسمبلی اجلاس، وفاقی مجموعی فنڈ سے غیر تصویبی اخراجات و اخراجات برائے سال 2024-2025 اور 2025-2026 کے ضمن میں ریگولر اور ٹیکنیکل ضمنی گرانٹس منظور

اسلام آباد۔24جون (اے پی پی):قومی اسمبلی نے 1035 ارب 99 کروڑ روپے سے زائد کے وفاقی مجموعی فنڈ سے غیر تصویبی اخراجات کے علاوہ اخراجات برائے سال 2024-2025 اور 2025-2026 کے ضمن میں ریگولر اور ٹیکنیکل ضمنی گرانٹس کی منظوری دےدی۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے مختلف وزارتوں اور ڈویژن سے متعلق 35 مطالبات زر ایوان میں پیش کئے جن کی ایوان نے منظوری دےدی۔ ان میں مالی سال 2024-2025 کےلئے تقریباً 554 ارب 32 کروڑ 72 لاکھ روپے سے زائد جبکہ مالی سال 2025-2026 کےلئے 481 ارب 66 کروڑ 58 لاکھ روپے سے زائد کی سپلیمنٹری گرانٹس شامل تھیں۔

ایوان کی طرف سے منظور کی گئی گرانٹس میں ایئر پورٹس سکیورٹی فورس، کیبنٹ ڈویژن، کامرس ڈویژن، ڈیفنس ڈویژن، ڈیفنس سروسز، کنٹونمنٹس اور گریژنز میں وفاقی تعلیمی ادارے، پاور ڈویژن، وفاقی تعلیم اور پروفیشنل ٹریننگ ڈویژن، گرانٹس، سبسڈیز اور متفرق اخراجات، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، فارن مشنز، وزارت اطلاعات و نشریات ڈویژن، داخلہ ڈویژن، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری، کمبائنڈ سول آرمڈ فورسز، امور کشمیر اور گلگت بلتستان ڈویژن، قانون و انصاف، نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ ڈویژن، پاکستان ایگریکچرل ریسرچ کونسل، نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن، پارلیمانی امور ڈویژن، تخفیف غربت و سماجی تحفظ، سپارکو، نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن، خزانہ ڈویژن، پٹرولیم ڈویژن، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، نیشنل سکیورٹی ڈویژن، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل ڈویژن، موسمیاتی تبدیلی و انوائرنمنٹل کوآرڈینیشن ڈویژن،

ہائوسنگ اینڈ ورکس ڈویژن، انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن ڈویژن، انٹر پراونشل کوآرڈینیشن ڈویژن، وفاقی متفرق سرمایہ کاری اور دیگر قرضے و ایڈوانسز، ریونیو ڈویژن، سول ورکس پر مصارف سرمایہ، شعبہ ریلوے پر مصارف سرمایہ کے علاوہ وفاقی حکومت کی طرف سے مختلف ترقیاتی اخراجات اور مصارف سرمایہ کے پراجیکٹس شامل ہیں۔منظور شدہ گرانٹس کا مقصد دونوں مالی سالوں کے دوران مختلف سرکاری اداروں کے اضافی آپریشنل، ترقیاتی اور انتظامی اخراجات پورے کرنا ہے۔