لاہور ہائیکورٹ نے گوجرانوالہ میں گرفتار نوجوانوں کو ہتھکڑیاں لگا کر گنجا کرنے اور ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے معاملے میں سخت ریمارکس دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کسی بھی پولیس افسر کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ، نوجوانوں کو ہتھکڑیاں لگا کر گنجا کرنے اور ویڈیوز وائرل کرنے کے معاملے پرآر پی او گوجرانوالہ کو تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کا حکم

مزید خبریں
لاہور۔24جون (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے گوجرانوالہ میں گرفتار نوجوانوں کو ہتھکڑیاں لگا کر گنجا کرنے اور ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے معاملے میں سخت ریمارکس دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کسی بھی پولیس افسر کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔ عدالت نے پولیس کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے آر پی او گوجرانوالہ کو تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔جسٹس علی ضیا باجوہ نے آئی جی پنجاب، سی پی او گوجرانوالہ سمیت دیگر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر گزشتہ سماعت کا تحریری حکم جاری کر دیا۔
تحریری حکم میں عدالت نے قرار دیا کہ پولیس افسران کو کسی ملزم کی بے عزتی کرنے، اسے گنجا کرنے یا اس کے ساتھ کسی بھی قسم کا غیر انسانی سلوک کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ عدالت نے کہا کہ افراد کو گنجا کر کے ان کی ویڈیوز بنانا اور سوشل میڈیا پر وائرل کرنا ان کی عزتِ نفس مجروح کرنے کے مترادف ہے۔عدالت نے آبزرویشن دی کہ ایسے اقدامات سے عوام کا قانون کی حکمرانی، شفافیت اور نظامِ انصاف پر اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ تحریری حکم میں مزید کہا گیا کہ پولیس افسران کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وہ قانون کے رکھوالے ہیں اور ان پر شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
عدالت نے پولیس رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ ایف آئی آر میں صرف تین ملزمان کی گرفتاری کا ذکر کیا گیا، جبکہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں نو افراد گرفتار حالت میں دکھائی دیتے ہیں۔ عدالت کے مطابق پولیس یہ بتانے میں ناکام رہی کہ ہتھکڑیوں میں جکڑے دیگر چھ افراد کون تھے۔درخواست گزار کی جانب سے احمد شیر ایڈووکیٹ نے دلائل دیے۔ عدالت نے آر پی او گوجرانوالہ کو ہدایت کی کہ وہ معاملے کے تمام پہلوں کا جائزہ لے کر تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔








