راولپنڈی ،ماہرین تعلیم کا سکولوں میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم شامل کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم

راولپنڈی ،ماہرین تعلیم کا سکولوں میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم شامل کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم

راولپنڈی۔24جون (اے پی پی):ماہرین تعلیم نے پنجاب حکومت کی جانب سے سکولوں کے نصاب میں مصنوعی ذہانت (AI) کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کرنے کی مجوزہ تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک اہم اقدام قرار دیا ہے۔

سروے کے دوران ماہرین تعلیم نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متعدد نجی تعلیمی ادارے پہلے ہی مصنوعی ذہانت سے متعلق مضامین اور تصورات پر کام کر رہے ہیں۔آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر ڈاکٹر ابرار حسین ملک نے کہا کہ یہ اقدام جدید مہارتوں سے آراستہ نئی نسل کی تیاری کے لیے ایک دور اندیش فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اب محض ایک جدید ٹیکنالوجی نہیں رہی بلکہ مستقبل کی ضرورت بن چکی ہے، اس لیے اس کی ابتدائی تعلیم قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ نصاب میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے سے طلبہ نہ صرف ٹیکنالوجی کے استعمال سے آگاہ ہوں گے بلکہ اس کی ترقی اور جدت میں بھی اپنا کردار ادا کر سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ممالک جدید ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، وہ عالمی معیشت میں نمایاں مقام حاصل کر رہے ہیں اور پاکستان کو بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کے چیف پیٹرن چوہدری امجد زیب نے بھی اس مجوزہ پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے اسے بروقت اور اہم فیصلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں میں مصنوعی ذہانت کی شمولیت طلبہ کو ڈیجیٹل دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بہتر انداز میں تیار کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت لوگوں کے سوچنے، سیکھنے اور کام کرنے کے انداز کو تبدیل کر رہی ہے جبکہ سکول کی سطح پر اس کی تعلیم طلبہ میں تجزیاتی اور مسائل حل کرنے کی صلاحیتوں کو فروغ دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات پاکستان کی عالمی تکنیکی میدان میں مسابقتی صلاحیت کو بھی مضبوط بنائیں گے۔علامہ اقبال سکول کے پرنسپل یاسر ملک نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو لازمی مضمون قرار دینے سے طلبہ کے لیے سیکھنے کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ جدید تعلیم کا تقاضا ہے کہ عالمی معیار کے مطابق رہنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو تعلیمی نظام کا حصہ بنایا جائے،مصنوعی ذہانت طلبہ کو پیچیدہ تعلیمی مسائل حل کرنے اور سائنسی تصورات کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد فراہم کر سکتی ہے جبکہ کلاس روم میں اس کے عملی استعمال سے تعلیمی معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔انہوں نے کہا کہ اگر جدید ٹیکنالوجیز کو بروقت اختیار نہ کیا گیا تو طلبہ تیزی سے بڑھتے ہوئے مسابقتی ماحول میں پیچھے رہ سکتے ہیں اور اب مصنوعی ذہانت سیکھنا نئی نسل کے لیے انتخاب نہیں بلکہ ضرورت بن چکا۔