ایس ای سی پی اور نیب کا غیر قانونی سرمایہ کاری سکیموں کے خلاف مشترکہ کارروائی کے لیے تعاون پر اتفاق

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور قومی احتساب بیورو (نیب) نے سرمایہ کاری کی غیر قانونی سکیموں اور غیرقانونی ڈیپازٹ ٹیکینگ کے خلاف موثر کارروائی کرنے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

اسلام آباد۔24جون (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور قومی احتساب بیورو (نیب) نے سرمایہ کاری کی غیر قانونی سکیموں اور غیرقانونی ڈیپازٹ ٹیکینگ کے خلاف موثر کارروائی کرنے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ نے ایس ای سی پی ہیڈ آفس کا دورہ کیا جہاں چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو سے ملاقات میں غیر قانونی ڈپازٹ سکیموں کے خلاف مشترکہ کارروائی، معلومات کے تبادلے اور مربوط انفورسمنٹ کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) طے کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کا کہنا تھا کہ غیر قانونی ڈپازٹ سکیمیں غیر معمولی منافع کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے شہریوں کو اپنی جانب راغب کرتی ہیں اور انہیں بھاری مالی نقصان پہنچاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سرگرمیاں مالیاتی نظام پر عوام کے اعتماد کو مجروح کرتی ہیں اور قانونی کاروباری و مالیاتی اداروں کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ چیئرمین ایس ای سی پی نے اس بات پر زور دیا کہ غیر قانونی ڈپازٹ سکیموں میں ملوث عناصر کے خلاف بروقت اور سخت کارروائی ناگزیر ہے۔ملاقات میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ ایس ای سی پی اور نیب کے درمیان تعاون قانون شکن عناصر کے خلاف فوری کارروائی کو یقینی بنائے گا، قانون پر عمل درآمد کو مزید موثر بنائے گا اور متاثرہ شہریوں کو بروقت ریلیف فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ نے مالی جرائم کے خاتمے اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے ایس ای سی پی کے ساتھ قریبی تعاون کا یقین دلایا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ اور اشتراک نفاذی صلاحیت میں اضافہ کرے گا، احتساب کے عمل کو مزید مؤثر بنائے گا اور غیر قانونی ڈپازٹ سکیموں سمیت دیگر مالیاتی فراڈ کی حوصلہ شکنی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ایس ای سی پی عوام الناس کو واضح کیا جاتا ہے کہ کسی کمپنی کی محض ایس ای سی پی میں رجسٹریشن اسے عوام سے سرمایہ اور ڈپازٹ جمع کرنے کا اختیار نہیں دیتی۔ کمپنیز ایکٹ 2017 کی دفعہ 84 کے تحت بینکنگ کمپنیوں اور ایس ای سی پی سے باقاعدہ لائسنس یافتہ اداروں کے علاوہ کسی بھی کمپنی کے لیے عوام سے ڈپازٹ وصول کرنا غیر قانونی اور ممنوع ہے۔

مزید خبریں