بھارتی حکومت کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے مذموم منصوبے پر عمل پیرا ہے، حریت کانفرنس

بھارتی حکومت کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے مذموم منصوبے پر عمل پیرا ہے، حریت کانفرنس

سرینگر۔25جون (اے پی پی):بھارت کے غیر قانونی زیرتسلط جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بی جے پی کی بھارتی حکومت کشمیریوں کو ان کی شناخت و ثقافت سے محروم کرنے اور علاقے کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے مذموم منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو 370 اور 35 اے دفعات کی منسوخ کے بعد مقبوضہ علاقے میں غیر مقامی بھارتی ہندوئوں کو آباد کرنے کے لیے یہاں کے ڈومیسائل قوانین میں تبدیل کیے اور اب تک لاکھوں ہندوئوں کو علاقے میں بسایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی-آر ایس ایس منظم طریقے سے آباد کاری کی استعمار ی راہ ہموار کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو ان کی اپنی سرزمین پر ملازمتوں سے محروم کیا جا رہا ہے ، مقامی ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کر کے ان کی جگہ بھارتی ہندو ملازمین تعینات کیے جا رہے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ بھارتی انتظامیہ کشمیریوں کے گھروں ، زمینوں اور دیگر املاک کو مختلف حیلے بہانوں سے مسلسل قبضے میں لے رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت اپنے نوآبادیاتی ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوں کو اپنے ہی وطن میں اجنبی بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہ بھارت کی تمام تر سازشوں ،ریشہ دائیوں کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں اور وہ اپنی تحریک آزادی کو اسکے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہیں۔ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ متنازعہ علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے اور کشمیری تشخص کو ختم کرنے کے بھارت کے منصوبوں کا نوٹس لے۔