وفاقی دارالحکومت میں محرم الحرام کے دوران فول پروف سیکیورٹی انتظامات کئے جاتے ہیں ،ایس پی سٹی زون ڈاکٹر ایاز حسین
وفاقی دارالحکومت میں محرم الحرام کے دوران فول پروف سیکیورٹی انتظامات کئے جاتے ہیں ،ایس پی سٹی زون ڈاکٹر ایاز حسین
اسلام آباد۔ 25 جون (اے پی پی):ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے ڈیجیٹل میڈیا پروگرام "سائیلنٹ شیلڈ” کی خصوصی محرم نشریات میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) سٹی زون اسلام آباد ڈاکٹر ایاز حسین نے وفاقی دارالحکومت میں امن و امان اور بین المسالک ہم آہنگی کے قیام کے لیے پولیس کی جامع سیکیورٹی حکمت عملی کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
ایس پی سٹی نے اے پی پی کے اینکر پرسن اور تحقیقاتی رپورٹر سید بلال عزت نقوی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ محرم الحرام محض ایک روایتی سیکیورٹی مشق نہیں بلکہ ایک گہرا جذباتی، روحانی اور تاریخی موقع ہے جس کے باعث ملک اور بیرون ملک سے لاکھوں عزادار وفاقی دارالحکومت کا رخ کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پولیس کی ذمہ داریاں دوگنی ہو جاتی ہیں۔ ڈاکٹر ایاز حسین نے بتایا کہ سیکیورٹی پلاننگ کا عمل کئی ہفتے قبل شروع کر دیا جاتا ہے، جس کے تحت تمام روٹس کا تفصیلی جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ تمام امام بارگاہوں اور مجالس کے مقامات کی جیو ٹیگنگ (Geo-tagging) کی جاتی ہے، اور حساس مقامات پر اسنائپرز کی تعیناتی، سی سی ٹی وی کیمرے، واچ ٹاورز، اور سیکیورٹی بیرئیرز نصب کر کے موبائل پیٹرولنگ میں اضافہ کیا جاتا ہے۔
سیکیورٹی انتظامات کے دائرہ کار اور اعداد و شمار پر روشنی ڈالتے ہوئے ایس پی سٹی نے بتایا کہ محرم الحرام کے دوران مجموعی طور پر وسیع تر سیکیورٹی نظم و نسق سنبھالا جاتا ہے، تاہم حالیہ پلان کے مطابق مخصوص زونز میں مجموعی طور پر 95 جلوس برآمد کیے جائیں گے جن میں سے 14 انتہائی حساس جلوسوں کو سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کے تحت ‘اے’ کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صرف یومِ عاشور کے موقع پر 4,000 سے زائد پولیس افسران و اہلکار ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دیں گے، جبکہ 300 سے زائد ٹریفک پولیس اہلکار شہر بھر میں قائم 57 سیکیورٹی چیک پوسٹس پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھیں گے، جنہیں رینجرز، پاک فوج اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی معاونت حاصل ہوگی۔ اس پورے حفاظتی نظام کی سیف سٹی کیمروں، ڈرونز اور باڈی وارن کیمروں کے ذریعے لائیو مانیٹرنگ کی جائے گی۔
ڈاکٹر ایاز حسین نے اپنے دائرہ اختیار کے حساس ترین روٹس کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جی 9/4 جامعہ المرتضیٰ سے شروع ہو کر کشمیر ہائی وے پر پی ڈبلیو ڈی چوک تک جانے والا مرکزی جلوس اور جی 6/2 امام بارگاہ اثنا عشری سے برآمد ہونے والا جلوس ان کے زون کے بڑے جلوسوں میں شامل ہیں، جس کے باعث عاشورہ کے دن صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تک فضلِ حق روڈ، پولی کلینک روڈ اور میونسپل روڈ عام ٹریفک کے لیے بند رہیں گے۔ ایس پی سٹی نے پریس ریلیز میں اس بات پر زور دیا کہ اسلام آباد پولیس کا کردار محض لاٹھی لے کر کھڑے ہونا نہیں ہے، بلکہ پولیس مختلف مکاتبِ فکر کے مابین ایک پل کا کردار ادا کرتی ہے جس کے لیے شیعہ اور سنی علماء کرام کو ایک میز پر لا کر امن کا باہمی عہد لیا جاتا ہے۔
محرم کے دوران پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے اپنے جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جو سخت موسم میں اپنے خاندانوں سے دور 16 سے 18 گھنٹے طویل ڈیوٹیاں دیتے ہیں، اور انہوں نے اس ڈیوٹی کو ملازمت کے بجائے ایک مقدس مشن اور الٰہی امانت قرار دیا۔ انٹرویو کے اختتام پر ڈاکٹر ایاز حسین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیس کی ہدایات پر عمل کریں، سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانے سے گریز کریں، ٹریفک کی معلومات کے لیے آئی ٹی پی ہیلپ لائن (1915) سے رجوع کریں اور کسی بھی مشکوک چیز یا فرد کی اطلاع فوری پولیس کو دیں، کیونکہ امن کا قیام صرف پولیس کی نہیں بلکہ ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔









