وینزویلا میں تباہ کن زلزلوں کے بعد اقوام متحدہ متحرک، امدادی کارروائیاں تیز

وینزویلا میں تباہ کن زلزلوں کے بعد اقوام متحدہ متحرک، امدادی کارروائیاں تیز

اقوام متحدہ۔26جون (اے پی پی):اقوام متحدہ نے وینزویلا میں آنے والے تباہ کن زلزلوں کے بعد امدادی سرگرمیاں تیز کرتے ہوئے متاثرین کی مدد کے لیے حکومت اور بین الاقوامی امدادی اداروں کے ساتھ مشترکہ کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (او سی ایچ اے) کے مطابق مختلف ممالک سے آنے والی شہری تلاش و بچاؤ (اربن سرچ اینڈ ریسکیو) ٹیموں کی تعیناتی کو مربوط بنایا جا رہا ہے تاکہ امدادی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل برائے انسانی امور و ہنگامی امداد، ٹام فلیچر نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار ادارے وینزویلا کے عوام کی مدد کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی ٹیم قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز اور متعلقہ قومی حکام سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ امداد جلد از جلد متاثرین تک پہنچائی جا سکے۔ٹام فلیچر نے کہا کہ زلزلوں سے قبل بھی وینزویلا میں تقریباً 80 لاکھ افراد انسانی امداد کے محتاج تھے، جبکہ اس قدرتی آفت نے پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفان دوجارک نے بتایا کہ وینزویلا کی حکومت نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے، جبکہ خطے اور دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے امدادی تعاون کی پیشکشیں موصول ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دارالحکومت کراکس میں ایک مرکزی امدادی رابطہ مرکز قائم کر دیا گیا ہے تاکہ متاثرہ علاقوں تک امداد جلد اور مؤثر انداز میں پہنچائی جا سکے۔

اقوام متحدہ کے مطابق زلزلوں سے دارالحکومت کاراکاس سمیت متعدد ریاستوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ کئی افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے یا لاپتا ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچنے سے ضروری خدمات بھی متاثر ہوئی ہیں۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے خبردار کیا ہے کہ اس آفت کے باعث بے گھر افراد، وطن واپس آنے والوں اور دیگر کمزور طبقات کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں صنفی تشدد کے خطرات، محفوظ رہائش کی کمی اور صحت، پانی، تعلیم اور روزگار جیسی بنیادی سہولیات تک محدود رسائی شامل ہیں۔