پہلے منتخب ہونے والا ملازم بعد میں منتخب ہونے والے سے سینئر ہوگا، حکومت غیر متاثرہ فریق بن کر سنیارٹی کے مقدمات نہ لڑے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی بین السنیارٹی کا تعین قانون اور قواعد کے مطابق ہوگاجبکہ حکومت صرف اس صورت میں ٹربیونل کے فیصلے کو چیلنج کر سکتی ہے جب قانون کی غلط تشریح یا دائرہ اختیار کا سوال ہو محض سنیارٹی کے تنازعہ میں حکومت خود کو متاثرہ فریق قرار نہیں دے سکتی۔

اسلام آباد۔29جون (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی بین السنیارٹی کا تعین قانون اور قواعد کے مطابق ہوگاجبکہ حکومت صرف اس صورت میں ٹربیونل کے فیصلے کو چیلنج کر سکتی ہے جب قانون کی غلط تشریح یا دائرہ اختیار کا سوال ہو محض سنیارٹی کے تنازعہ میں حکومت خود کو متاثرہ فریق قرار نہیں دے سکتی۔رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل تین رکنی بنچ نے سندھ حکومت کی جانب سے دائر 18 سول پٹیشنز مسترد کرتے ہوئے سندھ سروس ٹربیونل کا 2 جون 2025ء کا فیصلہ برقرار رکھا۔عدالت نے قرار دیا کہ سندھ سول سرونٹس (پروبیشن، کنفرمیشن اینڈ سنیارٹی) رولز 1975 کے رول 11(a) کے تحت پہلے سلیکشن میں منتخب ہونے والا ملازم بعد میں منتخب ہونے والے ملازم پر سنیارٹی رکھتا ہے۔

مشترکہ سنیارٹی لسٹ تیار کرتے وقت بھی اس اصول کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔فیصلے کے مطابق کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سندھ نے 2012ء میں 23 مختلف مضامین کے لیکچررز کی بھرتی کے لئے اشتہار دیا تھا تاہم سندھ پبلک سروس کمیشن نے مختلف مضامین کے امیدواروں کی سفارشات مختلف اوقات میں ارسال کیں۔ بعد ازاں بعض امیدواروں کی اصل سلیکشن تاریخ کو سنیارٹی لسٹ میں مدنظر نہ رکھنے پر انہوں نے سندھ سروس ٹربیونل سے رجوع کیا جس نے ان کے حق میں فیصلہ دیا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ انگریزی کے لیکچررز کے معاملے میں محکمہ نے پہلے سلیکشن کی بنیاد پر سینیارٹی درست کی لیکن دیگر مضامین کے لیکچررز کو یہی قانونی اصول نہ دینا امتیازی سلوک اور قواعد کے منافی تھا۔عدالت نے مزید آبزرو کیا کہ اگر کوئی ملازم ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کرتا تو حکومت کو غیرجانبدار آجر (Fair Employer) کے طور پر فیصلے پر عملدرآمد کرنا چاہئے، نہ کہ ایک حریف ملازم کی طرح مقدمہ بازی کو طول دینا چاہئے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ "No Aggrieved Person, No Appeal” کا اصول اس مقدمے پر پوری طرح لاگو ہوتا ہے کیونکہ صرف وہی شخص عدالت سے رجوع کر سکتا ہے جس کے قانونی حقوق متاثر ہوئے ہوں۔ عدالت نے قرار دیا کہ حکومت نہ تو سنیارٹی سے متاثرہ فریق تھی اور نہ ہی اس نے کوئی ایسا قانونی نکتہ اٹھایا جس سے ٹربیونل کے فیصلے میں مداخلت کی جا سکے۔ عدالت نے Province of Punjab v. Dr. Muhammad Afzal (PLD 1999 SC 337) کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ایک منصف اور غیرجانبدار آجر کا کردار ادا کرنا چاہئے، نہ کہ ملازمین کے مابین تنازعات میں مدِمقابل فریق بننا چاہئے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ سندھ سروس ٹربیونل کے فیصلے میں کوئی قانونی سقم، بے ضابطگی یا خلافِ قانون پہلو موجود نہیں، لہٰذا سندھ حکومت کی تمام سول پٹیشنز مسترد کی جاتی ہیں۔

مزید خبریں