وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان ریلوے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے اور ادارے کی ڈیجیٹلائزیشن مکمل کی جا رہی ہے۔ ریلوے کی تاریخ میں 115 ارب روپے کے ریونیو ہدف کو حاصل کر لیا گیا ہے جبکہ 6 جولائی تک موجودہ ریونیو ٹارگٹ بھی مکمل کر لیا جائے گا، ایم ایل ون منصوبے میں روہڑی تا کراچی سیکشن کا سنگ بنیاد وزیراعظم ستمبر میں …
ریلوے کی تاریخ میں 115 ارب روپے ریونیو ہدف حاصل کر لیا، ایم ایل ون کا افتتاح ستمبر میں متوقع ہے، حنیف عباسی

مزید خبریں
راولپنڈی۔29جون (اے پی پی):وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان ریلوے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے اور ادارے کی ڈیجیٹلائزیشن مکمل کی جا رہی ہے۔ ریلوے کی تاریخ میں 115 ارب روپے کے ریونیو ہدف کو حاصل کر لیا گیا ہے جبکہ 6 جولائی تک موجودہ ریونیو ٹارگٹ بھی مکمل کر لیا جائے گا، ایم ایل ون منصوبے میں روہڑی تا کراچی سیکشن کا سنگ بنیاد وزیراعظم ستمبر میں رکھیں گے۔راولپنڈی ریلوے لوکو شیڈ میں نو تعمیر شدہ گارڈ اور ڈرائیور رننگ رومز کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ریلوے کے سکولوں اور اسپتالوں کو آئوٹ سورس کیا جا رہا ہے جبکہ مختلف شعبوں میں رائٹ سائزنگ بھی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ گمراہ کن ہے اور اس کے ذریعے قوم کو غلط تاثر دیا گیا۔ ان کے مطابق ریلوے میں 19 فیصد خسارے کی رپورٹ حقائق کے منافی ہے جبکہ 63 ارب روپے کی پنشن ریلوے نہیں بلکہ حکومت پاکستان بطور گرانٹ ادا کرتی ہے۔حنیف عباسی نے کہا کہ مارچ 2025ء میں وزارت سنبھالنے کے بعد صرف چار ماہ میں آپریٹنگ لاگت میں 3 ارب 60 کروڑ روپے کی کمی لائی گئی جو عملی طور پر منافع کے مترادف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ ٹرینیں آئوٹ سورس کی جا چکی ہیں، فریٹ سیکٹر میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ڈویژنز کی لینڈ ارننگ میں بھی 50 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ 20 برس سے پاور وینز کی اوور ہالنگ نہیں ہوئی تھی تاہم 16 نئے پاور پلانٹس کی خریداری کے لیے بولیاں کل کھولی جائیں گی اور آئندہ سال 23 مارچ تک تمام پاور وینز اوور ہال کر دی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ عوام ایکسپریس کے چار ریکس کی ری فربشمنٹ مکمل ہو چکی ہے جبکہ جون 2027ء تک تمام ٹرینیں جدید انداز میں بحال کر دی جائیں گی۔ایم ایل ون منصوبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ روہڑی تا کراچی سیکشن کا سنگ بنیاد وزیراعظم ستمبر میں رکھیں گے۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی خواہش ہے کہ ایم ایل ون منصوبہ جلد از جلد مکمل ہو۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایم ایل تھری روہڑی تا زاہدان منصوبے پر بھی کام جاری ہے اور کوشش ہے کہ ان کی موجودگی میں ہی اس پر عملی کام شروع ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ ای سی سی ایم ایل تھری پراجیکٹ کی منظوری دے چکی ہے۔حنیف عباسی نے کہا کہ راولپنڈی ریلوے سٹیشن کے بیرونی حصے کو لاہور کی طرز پر اپ گریڈ کیا جائے گا جس کے لیے وسائل کا بندوبست کیا جا رہا ہے اور منصوبہ دسمبر تک مکمل کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان کی موجودگی میں ریلوے ٹریک کی تعمیر نہ ہو سکی تو یہ ان کی بدقسمتی ہوگی۔انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر مسافر اور فریٹ ٹرینوں کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے ریلوے کرایوں میں کمی ممکن نہیں۔اس موقع پر وفاقی وزیر نے راولپنڈی میں نو تعمیر شدہ گارڈ اور ڈرائیور رننگ رومز کا افتتاح بھی کیا۔ ریلوے سٹیشن اور لوکو شیڈ کے قریب قائم ان جدید رننگ رومز میں ایئر کنڈیشنڈ، آرام دہ رہائش اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے سولر سسٹم نصب کیا گیا ہے۔ حنیف عباسی نے کہا کہ 36 سال میں پہلی بار گارڈز اور لوکو پائلٹس کو ایسی معیاری رہائشی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں اور مستقبل میں ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی اسی طرز کے جدید رننگ رومز تعمیر کیے جائیں گے۔








