وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت منگل کے روز اجلاس ہوا جس میں کوہاٹ ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں، امن و امان، گورننس و سروس ڈیلیوری کے امور کا جائزہ لیا گیا ۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیرِ صدارت اجلاس ، کوہاٹ ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں، امن و امان، گورننس و سروس ڈیلیوری کا جائزہ لیا گیا

مزید خبریں
پشاور۔ 30 جون (اے پی پی):وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت منگل کے روز اجلاس ہوا جس میں کوہاٹ ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں، امن و امان، گورننس و سروس ڈیلیوری کے امور کا جائزہ لیا گیا ۔ سی ایم ہائوس کے تر جمان کے مطابق وزیر اعلیٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ منظوری کے بعد آج سے ڈویژنل سطح پر جائزہ اجلاسوں کا سلسلہ شروع ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کاموں اور سروس ڈیلیوری پر پریزنٹیشن کافی نہیں، عوام کا فیڈ بیک مثبت اوراطمینان بخش ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ جنوبی اضلاع میں امن کی صورتحال خصوصی توجہ کی متقاضی ہے ، حالات کا مقابلہ کرنا ہے، نیا مالی سال امن اور خوشحالی کا سال ہو گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نئے بجٹ میں ترجیحات کے مطابق پولیس، صحت اور تعلیم کے لیے زیادہ فنڈز مختص کیے گئے،جنوبی اضلاع میں پولیس کی نفری بڑھانے پر بھی غور کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھیں، افسر شاہی کا خاتمہ کریں اور دفاتر عوامی خدمت کے لیے کھلے رکھیں۔ محمد سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ تمام اضلاع میں تکمیل کے قریب ترقیاتی سکیموں کو پہیلی ترجیح میں مکمل کر کے فعال بنائیں،جنوبی اضلاع میں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے دیرپا تجاویز پر آگے بڑھیں۔وزیر اعلیٰ نے صوبے بھر میں ریپ کیسز میں ملوث عناصر کو عبرت کا نشان بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ریپ میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کریں تاکہ قانونی سزا سے بچ نکلنے کی کوئی گنجائش نہ رہے۔ ڈرگ ڈیلرز کے خلاف کریک ڈاؤن کی ہدایت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ ناسور ہے جس کا خاتمہ ناگزیر ہے،نشے کے عادی افراد کی بحالی کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ سرکاری محکموں کے اعلیٰ حکام کو میرٹ پر ذمہ داریاں تفویض کی گئیں، امید ہے وہ بھی اپنے محکموں میں میرٹ کی بالادستی یقینی بنائیں گے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ضلعی انتظامی حکام کھلی کچہریوں،دیگر عوامی سرگرمیوں میں مقامی منتخب عوامی نمائندوں کو بھی شامل کریں۔ صوبے میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی ریویمپنگ پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کا سالٹ اینڈ جپسم سٹی کرک میں تاخیر پر برہمی کا اظہار، تین ماہ کے اندر واضح پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایت کی ۔انہوں نے کہا کہ سالٹ اینڈ جپسم سٹی اہم منصوبہ ہے جس پر عمل درآمد سے صوبے کو ریونیو اور عوام کو روزگار فراہم ہو گا۔وزیر اعلیٰ نے تمام اضلاع میں زیر التوا میگا عوامی منصوبوں کی فہرست پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ۔انہوں نے کہا کہ وسیع تر عوامی مفاد کے حامل منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں گے۔ ہنگو ہسپتال میں عملے کی عدم موجودگی کے معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے سخت کاروائی کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ ہسپتال براہ راست عوام سے منسلک ہیں، کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس میں وزیر اعلیٰ کو متعلقہ حکام کی خصوصی بریفننگ کے مطابق اے ڈی پی 2025-26 کے تحت کوہاٹ ڈویژن میں 377 سکیموں پر کام جاری ہے، ڈویژن کے لیے مختص شدہ فنڈز کا 99.6 فیصد جاری گیا جبکہ فنڈز یوٹیلائزیشن کی شرح 96.7 فیصد ہے۔بریفنگ کے مطابق کوہاٹ ڈویژن کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2026-27 میں 75 نئی سکیمیں شامل کی گئی ہیں جن کا تخمینہ لاگت 63.6 ارب روپے ہے،اسی طرح آئندہ مالی سال کے اے ڈی پی میں کوہاٹ ڈویژن کی 80 جاری سکیموں کا تخمینہ لاگت 95.2 ارب روپے ہے۔ کوہاٹ ڈویژن میں فی میل ایجوکیشن کے فروغ کے لیے خصوصی داخلہ مہم شروع کی گئی ہے۔ اسی طرح منشیات کے استعمال اور پیشہ ورانہ گداگری کے خلاف بھی خصوصی مہم کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔








