بھارت کی یکطرفہ آبی پالیسی خطے کے امن کے لئے خطرہ ،پانی پر تصادم نہیں تعاون ہی امن کا راستہ ہے، احمد جواد

چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم احمد جواد نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے لئے سندھ طاس معاہدہ کا برقرار رہنا ناگزیر ہے کیونکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم کا بنیادی معاہدہ ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی نہ صرف اس کی روح کے منافی ہے …

اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم احمد جواد نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے لئے سندھ طاس معاہدہ کا برقرار رہنا ناگزیر ہے کیونکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم کا بنیادی معاہدہ ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی نہ صرف اس کی روح کے منافی ہے بلکہ پورے خطے کے امن اور استحکام کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پانی کے قدرتی بہاؤ میں ردوبدل یا اس کے انتظام میں یکطرفہ اقدامات پاکستان کے زرعی شعبے پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں کیونکہ پاکستان کی تقریباً 80 فیصد زراعت دریاؤں کے پانی پر انحصار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی جیسے حساس معاملے پر یکطرفہ پالیسیاں بین الاقوامی اعتماد کو بھی متاثر کرتی اور ریاستوں کے درمیان تعاون کے ماحول کو کمزور بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے وسائل پر تعاون، باہمی احترام اور معاہدوں کی پاسداری ہی جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام کی بنیاد بن سکتی ہے۔

احمد جواد نے کہا کہ اگر بھارت بالائی علاقوں میں مزید آبی ڈھانچے تعمیر کرتا ہے یا ایسے اقدامات کرتا ہے جن سے پانی کے بہاؤ پر نمایاں اثرات مرتب ہوں تو اس سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گا۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام متعلقہ فریقوں کو بین الاقوامی معاہدوں، ذمہ داریوں اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہئے تاکہ خطے میں امن، تعاون اور باہمی اعتماد کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ بین الاقوامی معاہدوں کے احترام، آبی وسائل کے منصفانہ انتظام اور خطے میں پائیدار امن کے فروغ کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت ہمیں محبور نہ کرے کہ پاکستان اپنے پانی کے دفاع کے لئے اقدامات کا آغاز کرے ،اگر ایسا ہوا تو بھارت کے ڈیمز ہمارے نشانوں پر ہوں گے اور اس سے بھارت کی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ہمارے لئے زراعت کی بقا اور غذائی سلامتی کا معاملہ ہے، بھارت اپنے غیر قانونی اقدامات سے ہمیں مجبور نہ کرے، پاکستان بھارت کی جانب سے کسی بھی قسم کی آبی جارحیت کو اعلان جنگ تصور کرتے ہوئے اس کا پوری قوت سے جواب دے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم بارہا واضح کر چکے کہ پاکستان کے عوام کا دریائے سندھ کے پانی پر پورا حق ہے، گلگت بلتستان سے پنجاب اور سندھ تک دریائے سندھ نسلوں کی آبیاری کرتا آیا ہے، سندھ کی تہذیب ہی ہماری اصل شناخت ہے اور ہم عظیم تہذیب کے وارث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے 24 کروڑ سے زائد عوام کی زندگی کی شہ رگ پر ہے اور اس پر کسی سمجھوتہ کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

مزید خبریں